hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1098

.

الطحاوي

1098
Al Tahawi
۱۰۹۸ : بِمَا حَدَّثَنَا فَہْدُ بْنُ سُلَیْمَانَ، قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِیْدِ بْنِ الْأَصْبَہَانِیِّ قَالَ : أَنَا أَبُوْ بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ، عَنْ أَبِیْ حُصَیْنٍ، عَنْ سُوَیِْد بْنِ غَفَلَۃَ قَالَ : سَمِعَ الْحَجَّاجُ أَذَانَہُ بِالظُّہْرِ وَہُوَ فِی الْجَبَّانَۃِ فَأَرْسَلَ إِلَیْہِ فَقَالَ : مَا ھٰذِہِ الصَّلَاۃُ قَالَ : صَلَّیْتُ مَعَ أَبِیْ بَکْرٍ وَمَعَ عُمَرَ وَمَعَ عُثْمَانَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ، حِیْنَ زَالَتِ الشَّمْسُ قَالَ : فَصَرَفَہٗ وَقَالَ : " لَا تُؤَذِّنْ وَلَا تَؤُمَّ " .قِیْلَ لَہٗ لَیْسَ فِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ الْوَقْتَ الَّذِیْ رَآہُمْ فِیْہِ سُوَیْدٌ، کَانَ فِی الصَّیْفِ، وَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ کَانَ فِی الشِّتَائِ، وَیَکُوْنُ حُکْمُ الصَّیْفِ، عِنْدَہُمْ، بِخِلَافِ ذٰلِکَ .وَالدَّلِیْلُ عَلٰی ذٰلِکَ أَنَّ یَزِیْدَ بْنَ سِنَانٍ۔
١٠٩٨: ابو حصین نے حضرت سوید بن غفلہ (رض) سے نقل کیا کہ حجاج نے میری ظہر کی اذان سنی جبکہ وہ مقام جبانہ (یہ مدینہ سے شام کی جانب ذباب کے قریب مقام ہے یا بلند زرخیز زمین کو کہتے ہیں) میں تھا اس نے پیغام بھیج کر مجھے بلایا اور پوچھا یہ کون سی نماز ہے ؟ تو میں نے جواب دیا میں نے ابوبکر و عمر ‘ عثمان (رض) کے ساتھ اس وقت نماز ظہر ادا کی جبکہ سورج ابھی ڈھلا ہی تھا (اس پر حجاج نے میری بات کو قبول نہ کیا بلکہ مسترد کردیا) اور اذان و نماز سے معزول کردیا اور کہا آئندہ نہ اذان دینا اور نہ جماعت کرانا۔ اسے کہا جائے گا کہ اس روایت میں تو ایسی کوئی دلیل نہیں کہ حضرت سوید (رض) نے ان کو جس وقت میں دیکھا وہ موسم گرما ہی تھا۔ عین ممکن ہے کہ وہ موسم سرما ہو اور گرمیوں کا حکم ان کے ہاں اس کے خلاف ہو۔ اس کا ثبوت یزید بن سنان کی روایت میں موجود ہے۔
تخریج : مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الصلاۃ ١؍٣٢٣۔
الجواب : اس حدیث میں بھی یہ مذکور نہیں کہ حضرت سوید نے ان کو جس نماز میں دیکھا کہ وہ کون سی نماز تھی اس میں ہر دو احتمال ہیں۔
نمبر ١: جس نماز میں سوید نے ان کو دیکھا وہ سردی کی نماز تھی اور یہ بھی درست ہے کہ گرمی کی نماز ہو اور گرمی کا حکم ان کے ہاں بھی ابراد کا ہے اور اس کی دلیل یہ روایت ہے۔