۱۰۹۹ : قَدْ حَدَّثَنَا قَالَ : ثَنَا أَبُوْ بَکْرِ ڑ الْحَنَفِیُّ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ أَبِیْہِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ قَالَ : لِأَبِیْ مَحْذُوْرَۃَ بِمَکَّۃَ إِنَّک بِأَرْضٍ حَارَّۃٍ شَدِیْدَۃِ الْحَرِّ، فَأَبْرِدْ، ثُمَّ أَبْرِدْ بِالْأَذَانِ لِلصَّلَاۃِ .أَفَلَا تَرٰی أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَدْ أَمَرَ أَبَا مَحْذُوْرَۃَ فِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ بِالْاِبْرَادِ لِشِدَّۃِ الْحَرِّ .وَأَوْلَی الْأَشْیَائِ بِنَا أَنْ نَحْمِلَ مَا رَوَاہُ عَنْہُ سُوَیْدٌ، عَلٰی غَیْرِ خِلَافِ ذٰلِکَ، فَیَکُوْنُ ذٰلِکَ، کَانَ مِنْہُ فِیْ وَقْتٍ لَا حَرَّ فِیْہِ .فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ : إِنَّ حُکْمَ الظُّہْرِ أَنْ یُعَجَّلَ فِیْ سَائِرِ الزَّمَانِ، وَلَا یُؤَخَّرَ کَمَا رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فِیْ حَدِیْثِ خَبَّابٍ وَعَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا وَجَابِرٍ، وَأَبِیْ بَرْزَۃَ، وَإِنَّمَا کَانَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، مَا کَانَ مِنْ أَمْرِہِ إِیَّاہُمْ بِالْاِبْرَادِ، رُخْصَۃً مِنْہُ لَہُمْ، لِشِدَّۃِ الْحَرِّ، لِأَنَّ مَسْجِدَہُمْ لَمْ یَکُنْ لَہٗ ظِلَالٌ، وَذَکَرَ فِیْ ذٰلِکَ، مَا رُوِیَ عَنْ مَیْمُوْنِ بْنِ مِہْرَانَ .
١٠٩٩: حضرت نافع نے ابن عمر (رض) سے نقل کیا کہ حضرت عمر (رض) نے مکہ میں ابو محذورہ (رض) کو حکم فرمایا تم گرم سخت حرارت والی سرزمین میں رہتے ہو پس ٹھنڈا کرو ٹھنڈا کرو پھر نماز ظہر کی اذان دو ۔ کیا تم توجہ نہیں کرتے کہ حضرت عمر (رض) نے ابومحذورہ (رض) کو سخت حرارت کی وجہ سے ٹھنڈے وقت میں نماز کا حکم دیا۔ پس بہترین طریق تو یہ ہے کہ حضرت سوید (رض) والی روایت کو اس کے ظاہر کے علاوہ پر محمول کیا جائے اور اس سے وہی وقت مراد ہوگا کہ جس میں شدت حرارت نہ ہو۔ اب اگر کوئی یہ کہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ‘ خباب اور جابر و ابوبرزہ (رض) کی روایات میں تو ظہر کو تمام موسموں میں جلدی پڑھنے کا حکم وارد ہوا ہے اور آپ کا اسے ٹھنڈے وقت وقت میں پڑھنے کا حکم رخصت و سہولت کے لیے ہے۔ اس کا سبب گرمی کی شدت تھی کیونکہ وہاں سایہ نایاب تھا۔ چنانچہ اس کے متعلق یہ اثر ملاحظہ ہو۔
تخریج : مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الصلاۃ ١؍٣٢٥۔
حاصل روایتإ
یہ ہے کہ عمر (رض) نے ابو محذورہ (رض) کو مکہ میں شدت حر کی وجہ سے ابراد کا حکم فرمایا معلوم ہوتا ہے کہ خلفاء کا طرز عمل ابراد ظہر کا تھا اور سوید بن غفلہ نے جس ظہر کا اپنی روایت میں تذکرہ فرمایا ہے وہ سردی کی نماز تھی۔