hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1113

.

الطحاوي

1113
Al Tahawi
۱۱۱۳ : مَا حَدَّثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ، قَالَ : ثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیْرٍ قَالَ ثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ أَبِیْ صَدَقَۃَ مَوْلٰی أَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنْ أَنَسٍ (أَنَّہٗ سُئِلَ عَنْ مَوَاقِیْتِ الصَّلَاۃِ فَقَالَ : کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّی صَلَاۃَ الْعَصْرِ، مَا بَیْنَ صَلَاتَیْکُمْ ہَاتَیْنِ) .فَذٰلِکَ مُحْتَمَلٌ أَنْ یَکُوْنَ أَرَادَ بِقَوْلِہٖ (فِیْمَا بَیْنَ صَلَاتَیْکُمْ ہَاتَیْنِ) مَا بَیْنَ صَلَاۃِ الظُّہْرِ، وَصَلَاۃِ الْمَغْرِبِ، فَذٰلِکَ دَلِیْلٌ عَلٰی تَأْخِیْرِہِ الْعَصْرَ .وَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُوْنَ أَرَادَ فِیْمَا بَیْنَ تَعْجِیْلِکُمْ وَتَأْخِیْرِکُمْ، فَذٰلِکَ دَلِیْلٌ عَلَی التَّأْخِیْرِ أَیْضًا، وَلَیْسَ بِالتَّأْخِیْرِ الشَّدِیْدِ .فَلَمَّا احْتَمَلَ ذٰلِکَ مَا ذَکَرْنَا، وَکَانَ فِیْ حَدِیْثِ أَبِی الْأَبْیَضِ، عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یُصَلِّیْہَا وَالشَّمْسُ بَیْضَائُ مُحَلِّقَۃٌ، دَلَّ عَلٰی أَنَّہٗ قَدْ کَانَ یُؤَخِّرُہَا .فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ : کَیْفَ ذٰلِکَ کَذٰلِکَ، وَقَدْ رُوِیَ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فِیْ ذَمِّ مَنْ یُؤَخِّرُ الْعَصْرَ .فَذَکَرَ فِیْ ذٰلِکَ۔
١١١٣: شعبہ نے ابو صدقہ مولیٰ انس (رض) سے نقل کیا ہے کہ ان (انس (رض)) سے اوقات نماز کے متعلق پوچھا گیا تو انھوں نے جواب دیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہاری ان دونوں نمازوں کے درمیان نماز عصر ادا فرماتے۔ اس روایت میں یہ احتمال ہے کہ روایت کے الفاظ ((فی ما بین صلٰوتیکم ھاتین۔۔۔)) اس سے ظہر اور مغرب کی نمازیں مراد ہیں۔ یہ تاخیر عصر کی دلیل ہے اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ تمہاری عجلت اور تاخیر کے درمیان مراد ہے۔ پس یہ تاخیر کی دلیل بن گئی۔ مگر اس تاخیر سے سخت قسم کی تاخیر مراد نہیں۔ جب روایت میں مذکورہ احتمال پیدا ہوگیا اور ابو الابیض والی روایت کہ آپ نماز عصر کو ایسے وقت میں ادا فرماتے جب سورج سفید اور روشن ہوتا وہ تاخیر کو ثابت کر رہی ہے اگر کوئی اس کے متعلق یہ کہے کہ آپ اس سے تاخیر کیسے مراد لیتے ہیں جبکہ حضرت انس (رض) کی یہ روایت موجود ہے۔
تخریج : الحاکم فی الکنٰی ۔
فیما بین صلاتیکم ھاتین اس عبارت میں احتمالات ہیں۔
نمبر ١: تمہاری تعجیل و تاخیر کے درمیان اس سے تاخیر مراد ہے مگر تاخیر شدید مراد نہیں ہے۔
نمبر ٢: نماز ظہر اور مغرب کے درمیان کا وقت اور یہ تاخیر کی دلیل ہے۔ اور انس (رض) کی روایت میں مذکور ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو اس وقت پڑھتے جب سورج سفید بلند ہوتا۔ اس سے ثابت ہوا کہ وہ اس کو مؤخر کرتے تھے۔
اشکال :
اس سے آپ تاخیر کس طرح مراد لیتے ہیں جبکہ حضرت انس (رض) سے تاخیر عصر کی شدید مذمت ثابت ہے جیسا کہ اس روایت میں ہے۔