۱۱۱۲ : مَا حَدَّثَنَا نَصَّارُ بْنُ حَرْبِ ڑ الْمِسْمَعِیُّ الْبَصَرِیُّ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ دَاوٗدَ الطَّیَالِسِیُّ، قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ مَنْصُوْرٍ عَنْ رِبْعِیٍّ، عَنْ أَبِی الْأَبْیَضِ، عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : (کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّی صَلَاۃَ الْعَصْرِ وَالشَّمْسُ بَیْضَائُ مُحَلِّقَۃٌ) .فَقَدْ أَخْبَرَ أَنَسٌ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ کَانَ یُصَلِّیْہَا وَالشَّمْسُ بَیْضَائُ مُحَلِّقَۃٌ، فَذٰلِکَ دَلِیْلٌ عَلٰی أَنَّہٗ قَدْ کَانَ یُؤَخِّرُہَا، ثُمَّ یَکُوْنُ بَیْنَ الْوَقْتِ الَّذِیْ کَانَ یُصَلِّیْہَا فِیْہِ وَبَیْنَ غُرُوْبِہَا، مِقْدَارُ مَا کَانَ یَسِیْرُ الرَّجُلُ إِلٰی ذِی الْحُلَیْفَۃِ وَإِلٰی مَا ذُکِرَ فِیْ ھٰذِہِ الْآثَارِ، مِنَ الْأَمَاکِنِ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، أَیْضًا فِیْ ذٰلِکَ۔
١١١٢: ابوالابیض نے حضرت انس (رض) سے نقل کیا ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز عصر پڑھاتے اور سورج ابھی سفید بلند ہوتا۔ حضرت انس (رض) نے بتلایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نمازِ عصر کو ایسے وقت میں ادا کرتے جبکہ سورج سفید چمکدار ہوتا۔ پس یہ دلیل ہے کہ آپ اس کو مؤخر فرماتے پھر اس وقت میں اور غروب میں اتنا وقت ہوتا کہ آدمی ذوالحلیفہ وغیرہ تک جاسکتا تھا جن مقامات کا ان روایات میں تذکرہ آیا ہے اور حضرت انس (رض) سے بھی ایسی روایت وارد ہے۔
اللغات : محلقہ۔ ای مرتفعہ بلند۔
تخریج : نسائی فی الموقیت باب ٨‘ مسند احمد ٣؍١٣١‘ ١٦٩؍١٨٤‘ ٢٣٢۔
حاصل روایت ہذا :
جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز عصر ایسے وقت ادا فرما لیتے جب کہ سورج سفید بلند ہوتا یہ دلیل ہے کہ آپ اس کو مؤخر فرماتے پھر جس وقت میں نماز ادا فرماتے اس کے اور غروب کے درمیان اتنا وقت ہوتا جس میں سوار ذوالحلیفہ وغیرہ مقامات تک جاسکتا تھا۔