hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1149

.

الطحاوي

1149
Al Tahawi
۱۱۴۹ : وَمَا قَدْ حَدَّثَنَا الرَّبِیْعُ بْنُ سُلَیْمَانَ الْمُؤَذِّنُ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ أَبِی الزِّنَادِ، عَنْ مُوْسَی بْنِ عُقْبَۃَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، فَذَکَرَ بِإِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ. قَالُوْا : فَلَمَّا جَائَ تِ الرِّوَایَۃُ بِھٰذَا وَبِمَا قَبْلَہُ اسْتَحْبَبْنَا أَنْ یَقُوْلَہُمَا الْمُصَلِّیْ جَمِیْعًا، وَمِمَّنْ قَالَ ھٰذَا أَبُوْ یُوْسُفَ رَحِمَہُ اللّٰہُ .
١١٤٩: عبداللہ بن فضل نے اعرج سے اور انھوں نے اپنی سند سے روایت اسی طرح نقل کی ہے۔ ان حضرات کا کہنا یہ ہے کہ جب یہ کلمات بھی روایت میں آئے اور اس سے پہلے کلمات بھی روایات میں آئے تو مناسب یہ ہے کہ نمازی ہر دو کو پڑھے۔ یہ قول امام ابویوسف (رح) کا ہے۔
تخریج : دارقطنی ١؍٢٩٧۔
حاصل روایات : یہ حضرت علی (رض) کی روایت ہے جو مختلف اسناد سے پیش کی گئی ہے اس میں صرف انی وجہت۔۔۔ کا تذکرہ ہے امام ابو یوسف (رح) نے اس روایت سے استدلال کیا ہے اس مؤقف کو آخر میں پیش کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ امام طحاوی (رح) کا رجحان بھی اسی طرف ہے کہ ہر دو کو پڑھا جائے تاکہ دونوں روایات جمع ہوجائیں۔
نوٹ : یہ مسئلہ بھی ان مسائل میں سے ہے جہاں امام طحاوی (رح) کا رجحان امام ابوحنیفہ (رح) کے خلاف ہے شاید اس لیے دوسرے مؤقف کو اتنے زور دار انداز سے پیش نہیں کیا نیز نظر طحاوی (رح) سے یہ باب بھی خالی ہے فتدبر۔