hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1150

.

الطحاوي

1150
Al Tahawi
۱۱۵۰ : حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ أَبِیْ مَرْیَمَ، قَالَ : أَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ : أَخْبَرَنِی خَالِدُ بْنُ یَزِیْدَ عَنْ سَعِیْدِ أَبِی ہِلَالٍ، عَنْ نُعَیْمِ بْنِ الْمُجْمِرِ قَالَ : صَلَّیْت وَرَائَ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَقَرَأَ، بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ [الفاتحۃ :۱]" فَلَمَّا بَلَغَ (غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّالِّیْنَ) [الفاتحۃ :۷] قَالَ : آمِیْن، فَقَالَ النَّاسُ " آمِیْن" ثُمَّ یَقُوْلُ اِذَا سَلَّمَ" أَمَا وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ إِنِیْ لَأَشْبَہُکُمْ صَلَاۃً بِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .
١١٥٠: نعیم بن مجمر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ (رض) کے پیچھے نماز ادا کی تو انھوں نے بسم اللہ سمیت سورة فاتحہ ولاالضالین تک پڑھی پھر آمین کہی تو لوگوں نے بھی آمین کہی پھر سلام پھیر کر کہنے لگے اچھی طرح سنو ! مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے قبضہ میں میری جان ہے بلاشبہ میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز میں تم سب سے بڑھ کر مشابہت والا ہوں۔
تخریج : نسائی فی الافتتاح باب ٢١‘ مسند احمد ٢؍٤٩٧‘ مستدرک حاکم ١؍٢٣٢۔
خلاصہ الزام : بسم اللہ کے متعلق بہت سی باتوں میں اختلاف ہے۔
نمبر ١: سورة نمل کی آیت کا صرف حصہ ہے یا مستقل آیت ہے امام مالک و احمد نمل کی آیت کا حصہ اور احناف ‘ شوافع مستقل الگ آیت مانتے ہیں۔
نمبر ٢: احناف بسم اللہ کو فاتحہ کا جزو نہیں کہتے جبکہ شوافع و حنابلہ فاتحہ کی آیت مانتے ہیں۔
نمبر ٣: عطاء و ابن مبارک کے ہاں بسم اللہ ہر سورت کا جزء ہے اور امام ابوحنیفہ و شافعی و حنبل (رح) کے ہاں ہر سورت کا جز نہیں ہے۔
نمبر ٤: امام مالک کے ہاں نماز میں اس کا پڑھنا مکروہ ہے احناف و حنابلہ مستحب کہتے ہیں۔
نمبر ٥: امام ابوحنیفہ و ابو یوسف (رح) کے ہاں سورت سے پہلے پڑھنا درست نہیں مگر امام محمد اس کو مستحب مانتے ہیں۔
نمبر ٦: ہر رکعت کے شروع میں پڑھنا مسنون نہیں یہ امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے اور ابو یوسف ہر رکعت کے شروع میں مستحب مانتے ہیں۔
نمبر ٧: امام شافعی (رح) کے ہاں جہری نماز میں جہراً سری میں سراً پڑھنا لازم ہے احناف و حنابلہ کے ہاں جہری و سری میں سراً پڑھنا لازم ہے اور امام مالک کے ہاں سر و جہر میں نہ پڑھیں گے یہاں مسئلہ نمبر ٧ کی تفصیل مقصود ہے۔
مؤقف اوّل : امام شافعی و دیگر علماء (رح) کے ہاں بسم اللہ کو نماز جہری میں جہراً اور سری میں سراً پڑھا جائے گا اس سلسلہ میں روایات و آثار ملاحظہ ہوں۔