۱۱۵۱ : حَدَّثَنَا فَہْدُ بْنُ سُلَیْمَانَ، قَالَ : ثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِیَاثٍ، قَالَ : ثَنَا أَبِیْ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِیْ مُلَیْکَۃَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ (أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یُصَلِّیْ فِیْ بَیْتِہَا، فَیَقْرَأُ (بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ إِیَّاکَ نَعْبُدُ وَإِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ اہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَّذِیْنَ أَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّالِّیْنَ) ) .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی أَنَّ " بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ" مِنْ فَاتِحَۃِ الْکِتَابِ، وَأَنَّہٗ یَنْبَغِیْ لِلْمُصَلِّیْ أَنْ یَقْرَأَ بِہَا، کَمَا یَقْرَأُ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا، بِمَا رُوِیَ عَنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔
١١٥١: ابن ابی ملیکہ نے امّ سلمہ (رض) سے نقل کیا کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے گھر میں نماز ادا فرماتے تو بسم اللہ الرحمن الرحیم سمیت سورة فاتحہ پڑھتے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ کچھ علماء کا خیال یہ ہے کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم سورة فاتحہ کا حصہ ہے چنانچہ نمازی کے لیے مناسب یہ ہے کہ اس کو اسی طرح پڑھے جس طرح سورة فاتحہ کو پڑھتا ہے اور ان روایات کو انھوں نے دلیل بنایا جو اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہیں۔
تخریج : ابو داؤد فی الحروف والقراءت نمبر ٤٠٠١۔