hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1160

.

الطحاوي

1160
Al Tahawi
۱۱۶۰ : مَا قَدْ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ، قَالَ : ثَنَا ہَوْذَۃُ بْنُ خَلِیْفَۃَ، عَنْ عَوْفٍ عَنْ یَزِیْدَ الرَّقَاشِیِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : قُلْتُ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ (مَا حَمَلَکُمْ عَلٰی أَنْ عَمَدْتُمْ إِلَی الْأَنْفَالِ، وَہِیَ مِنَ السَّبْعِ الطُّوَلِ وَإِلٰی بَرَائَ ۃٌ وَہِیَ مِنَ الْمِئِیْنِ؟ فَقَرَنْتُمْ بَیْنَہُمَا، وَجَعَلْتُمُوْہُمَا فِی السَّبْعِ الطُّوَلِ، وَلَمْ تَکْتُبُوْا بَیْنَہُمَا سَطْرَ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ .فَقَالَ عُثْمَانُ : إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، کَانَ یَنْزِلُ عَلَیْہِ الْآیَۃُ فَیَقُوْلُ : اجْعَلُوْہَا فِی السُّوْرَۃِ الَّتِیْ یَذْکُرُ فِیْہَا کَذَا وَکَذَا، وَکَانَتْ قِصَّتُہَا شَبِیْہَۃً بِقِصَّتِہَا .فَتُوُفِّیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ أَسْأَلْہُ عَنْ ذٰلِکَ، فَخِفْتُ أَنْ تَکُوْنَ مِنْہَا فَقَرَنْتُ بَیْنَہُمَا، وَلَمْ أَکْتُبْ بَیْنَہَا سَطْرَ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ وَجَعَلْتُہُمَا فِی السَّبْعِ الطُّوَلِ) .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَھٰذَا عُثْمَانُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، یُخْبِرُ فِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ " بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ " لَمْ تَکُنْ عِنْدَہٗ مِنَ السُّوْرَۃِ، وَأَنَّہٗ إِنَّمَا کَانَ یَکْتُبُہَا فِیْ فَصْلِ السُّوَرِ، وَہِیَ غَیْرُہُنَّ : فَھٰذَا خِلَافُ، مَا ذَہَبَ إِلَیْہِ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ مِنْ ذٰلِکَ .وَقَدْ جَائَ تَ الْآثَارُ مُتَوَاتِرَۃً عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَعَنْ أَبِیْ بَکْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ، أَنَّہُمْ کَانُوْا لَا یَجْہَرُوْنَ بِہَا فِی الصَّلَاۃِ .
١١٦٠: ابن عباس (رض) روایت کرتے ہیں کہ میں نے عثمان بن عفان (رض) سے سوال کیا تم نے سورة انفال کو جو کہ سبع طوال سے ہے اور سورة برأت جو کہ مئین سے ہے کیونکر ملا کر سبع طوال میں شامل کیا اور ان کے مابین فاصلہ کے لیے بسم اللہ الرحمن الرحیم کیوں نہیں لکھی اس پر عثمان (رض) نے جواب دیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جب وحی نازل ہوتی اور آیت اترتی تو آپ فرماتے اس کو فلاں فلاں سورة کی فلاں آیت کے بعد لکھ دو ان دونوں سورتوں کا واقعہ بڑی حد تک مشابہت رکھتا ہے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی اور اس سلسلہ میں سوال نہ کرسکا پس مجھے خطرہ ہوا کہ ہوسکتا ہے کہ یہ اسی سورت کا حصہ ہو تو میں نے ان کو ملا دیا اور بسم اللہ کی سطر ان کے مابین اس لیے نہیں لکھی (کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہیں فرمایا) اس لیے ان کو سبع طوال میں شامل کیا۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ عثمان غنی (رض) ہیں جو یہ بتلا رہے ہیں کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم ان کے ہاں سورت کا حصہ نہیں بلکہ اسے سورتوں میں فاصلے کے لیے لکھتے ہیں کہ وہ آیات اس سورت کے علاوہ ہیں۔ پس یہ وہ اختلافی بات ہے جس کی طرف ابن عباس (رض) گئے ہیں اور بہت سارے آثار جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر و عمرو عثمان (رض) سے آئے ہیں کہ وہ بسم اللہ میں جہر نہ کرتے تھے۔ یہ روایات اس کی دلیل ہیں۔
تخریج : ابو داؤد فی الصلاۃ باب ١٢٢‘ نمبر ٧٨٦‘ ترمذی فی تفیسر سورة نمبر ٩‘ باب ١‘ نبمر ٣٠٨٦‘ نسائی فی السنن الکبرٰی کتاب فضائل القرآن نمبر ٨٠٠٧‘ مسند احمد ١؍٥٧؍٦٩۔
لیجئے : یہ حضرت عثمان (رض) اس روایت میں بتلا رہے ہیں کہ بسم اللہ سورت کا حصہ نہیں اس کو فاصلہ سور کے لیے لکھا جاتا تھا مگر یہ ان سورتوں کا جز نہ تھی اس سے یہ ثابت ہوا کہ یہ فاتحہ کا بھی جز نہیں پس روایت ابن عباس (رض) سے یہ مفہوم لینا کہ بسم اللہ سورة فاتحہ کا جز ہے اس لیے اس کو ابن عباس (رض) نے سبع مثانی فرمایا ہے یہ درست نہیں اور جب جز نہ ہوئی تو فاتحہ کے جہر پر قیاس کر کے اس کا جہر ثابت نہیں ہوسکتا عدم جہر بسم اللہ پر مزید بہت سے آثار دلالت کرتے ہیں حضرت ابوبکر و عمرو عثمان (رض) اس کو نماز میں جہراً نہ پڑھتے تھے۔
روایات ملاحظہ ہوں :