۱۱۶۱ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ، قَالَ : ثَنَا إِسْمَاعِیْلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ، عَنِ الْجُرَیْرِیِّ، عَنْ قَیْسِ بْنِ عَبَایَۃَ، قَالَ : حَدَّثَنِی ابْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُغَفَّلٍ، عَنْ أَبِیْہِ، (وَقَلَّمَا رَأَیْتُ رَجُلًا أَشَدَّ عَلَیْہِ حَدَثًا فِی الْاِسْلَامِ مِنْہُ، فَسَمِعَنِیْ وَأَنَا أَقْرَأُ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ فَقَالَ : أَیْ بُنَیَّ، إِیَّاکَ وَالْحَدَثَ فِی الْاِسْلَامِ، فَإِنِّیْ قَدْ صَلَّیْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَبِیْ بَکْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ، فَلَمْ أَسْمَعْہَا مِنْ أَحَدٍ مِنْہُمْ، وَلَکِنْ اِذَا قَرَأَتْ فَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ) .
١١٦١: قیس بن عبایہ کہتے ہیں کہ مجھے ابن عبداللہ بن مغفل نے اپنے والد عبداللہ (رض) سے بیان کیا کہ میرے والد اسلام میں کسی بھی نئی بات کی ایجاد کے سخت خلاف تھے پس انھوں نے مجھے زور سے بسم اللہ پڑھتے سنا تو فرمایا اے بیٹے۔ تم اسلام میں نئی باتوں کی ایجاد سے بچو میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر و عمرو عثمان (رض) کے ساتھ نماز پڑھی میں نے ان کو بسم اللہ جہراً پڑھتے نہیں سنا لیکن جب تم قراءت شروع کرو تو کہو الحمد اللہ رب العالمین ۔
تخریج : ترمذی فی الصلاۃ باب ٦٦‘ نمبر ٢٤٤‘ نسائی فی الافتتاح باب ٢٢‘ ابن ماجہ فی الاقامۃ باب ٤۔