۱۱۸۰ : حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ قَالَ : ثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوْسٰی قَالَ : ثَنَا سَعِیْدٌ، وَحَمَّادٌ أَنَا زَیْدٌ، عَنْ أَبِیْ جَہْضَمٍ، مُوْسٰی بْنِ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ قَالَ : (کُنَّا جُلُوْسًا فِیْ فِتْیَانٍ مِنْ بَنِی ہَاشِمٍ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا فَقَالَ لَہٗ رَجُلٌ : کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقْرَأُ فِی الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ؟ قَالَ : لَا .قَالَ : فَلَعَلَّہٗ کَانَ یَقْرَأُ فِیْمَا بَیْنَہٗ وَبَیْنَ نَفْسِہٖ فِیْ حَدِیْثِ سَعِیْدٍ، قَالَ : لَا) ، وَفِیْ حَدِیْثِ حَمَّادٍ ہِیَ شَرٌّ مِنَ الْأُوْلٰی .ثُمَّ قَالَ : (کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَبْدًا لِلّٰہِ أَمَرَہُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ فَبَلَّغَ وَاللّٰہِ مَا أُمِرَ بِہٖ) .
١١٨٠: عبداللہ بن عبیداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ہم بنی ہاشم کے چند نوجوان ابن عباس (رض) کے پاس بیٹھے تھے ایک آدمی نے ان سے دریافت کیا کہ کیا جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظہر و عصر میں قراءت کرتے تھے انھوں نے جواب دیا نہیں۔ اس نے کہا شاید آپ اپنے دل میں پڑھ لیتے ہوں یہ سعید کی روایت میں ہے کہ آپ نے اس کے جواب میں فرمایا نہیں اور حماد کی روایت میں ہے یہ پہلی سے بھی زیادہ بری بات ہے پھر کہنے لگے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے مامور بندے تھے اللہ کی قسم آپ کو جو حکم ملا آپ نے پہنچا دیا۔
تخریج : ابو داؤد فی الصلاۃ باب ١٢٧ نمبر ٨٠٨۔
خلاصہ الزام : قراءت تو تمام نمازوں میں واجب ہے مگر اس کے باوجود بعض لوگ جیسے حسن بن صالح اور سوید بن غفلہ (رح) اس بات کے قائل ہوگئے کہ ظہر و عصر میں قراءت نہیں تمام ائمہ جمہور فقہاء و محدثین کے ہاں ظہر و عصر میں قراءت واجب ہے چونکہ یہ دن کی نمازیں ہیں سراً قراءت کی جائے گی جہراً ہرگز نہ کریں گے۔
مؤقف ِاوّل : ظہر وعصر میں سراً و جہراً کسی طرح کی قراءت نہیں ہے ان کا مستدل مندرجہ ذیل روایات و آثار ہیں۔