۱۱۸۱ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیْرِ بْنِ حَازِمٍ قَالَ : ثَنَا أَبِیْ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا یَزِیْدَ الْمَدَنِیَّ، یُحَدِّثُ عَنْ کَرْمَۃِ، عَنْ (ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَنَّہٗ قِیْلَ لَہٗ إِنَّ نَاسًا یَقْرَئُ وْنَ فِی الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ فَقَالَ : لَوْ کَانَ لِیْ عَلَیْہِمْ سَبِیْلٌ، لَقَلَعْتُ أَلْسِنَتَہُمْ، إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَرَأَ، فَکَانَتْ قِرَائَ تُہٗ لَنَا قِرَائَ ۃً وَسُکُوْتُہُ لَنَا سُکُوْتًا) .فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی ھٰذِہِ الْآثَارِ الَّتِیْ رَوَیْنَاہَا، فَقَلَّدُوْہَا، وَقَالُوْا لَا نَرٰی أَنْ یَقْرَأَ أَحَدٌ فِی الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ أَلْبَتَّۃَ .وَرَوَوْا ذٰلِکَ أَیْضًا عَنْ سُوَیْدِ بْنِ غَفَلَۃَ کَمَا۔
١١٨١: عکرمہ نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ ان سے کہا گیا کہ بعض لوگ ظہر و عصر میں قراءت کرتے ہیں تو انھوں نے فرمایا اگر مجھے ان پر اختیار ہوتا تو میں ان کی زبانیں گدی سے اکھاڑ دیتا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قراءت (کا مقام) ہمارے لیے قراءت اور سکوت (کا مقام) ہمارے لیے سکوت ہے۔ کچھ لوگ ان آثار کی طرف گئے اور ان کی پیروی میں انھوں نے یہ کہا کہ ہمارے نزدیک یہ درست نہیں کہ کوئی شخص ظہر اور عصر میں کچھ بھی پڑھے۔ انھوں نے حضرت سوید بن غفلہ (رض) کی اس روایت کو بھی اپنی دلیل میں پیش کیا ہے۔
تخریج : طبرانی فی المعجم الکبیر ١١؍٣٥٧۔