hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1182

.

الطحاوي

1182
Al Tahawi
۱۱۸۲ : حَدَّثَنَا أَبُوْ بِشْرٍ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنِ مَرْوَانَ الرَّقِّیُّ قَالَ : ثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِیْدِ، عَنْ زُہَیْرِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ، عَنِ الْوَلِیْدِ بْنِ قَیْسٍ قَالَ : سَأَلْتُ سُوَیِْد بْنَ غَفَلَۃَ (أَیَقْرَأُ فِی الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ؟ فَقَالَ : لَا) .فَقِیْلَ لَہُمْ : مَا لَکُمْ فِیْمَا رَوَیْنَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا حُجَّۃٌ، وَذٰلِکَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَدْ رُوِیَ عَنْہُ خِلَافُ ذٰلِکَ .کَمَا
١١٨٢: ولید بن قیس کہتے ہیں کہ میں نے سوید بن غفلہ سے دریافت کیا کیا ظہر و عصر میں قراءت کی جائے گی ؟ تو کہنے لگے نہیں۔ ان کے جواب میں یہ کہا جائے گا کہ ابن عباس (رض) والی روایت میں تمہارے حق میں کچھ بھی ثابت نہیں ہوتا کیونکہ ابن عباس (رض) کی روایت اس کے برعکس موجود ہے۔
تخریج : ابو داؤد فی الصلاۃ باب ١٢٧‘ نمبر ٨٠٩۔
حاصل روایات : ان آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ ظہر و عصر میں مطلقاً قراءت نہیں ہے چنانچہ بعض لوگوں نے انہی آثار کو لے کر ظہر و عصر میں قراءت کا انکار کیا اور سوید بن غفلہ (رح) سے بھی ظہر و عصر کی قراءت کا انکار ثابت ہو رہا ہے۔
روایات کا جواب : ابن عباس (رض) کی روایت میں عدم قراءت کی کوئی دلیل نہیں ان سے اس کے برعکس روایت بھی منقول ہے وہ ملاحظہ ہو۔