۱۲۳۶ : حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ قَالَ : ثَنَا أَسَدٌ قَالَ : ثَنَا ابْنُ أَبِیْ ذِئْبٍ، عَنِ الْمَقْبُرِیِّ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَکِیْمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ : (کُنَّا نُصَلِّیْ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ ثُمَّ نَأْتِیْ بَنِیْ سَلِمَۃَ، وَإِنَّا لَنُبْصِرُ مَوَاقِعَ النَّبْلِ) .فَلَمَّا کَانَ ھٰذَا وَقْتَ انْصِرَافِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلَاۃِ الْمَغْرِبِ، اسْتَحَالَ أَنْ یَکُوْنَ ذٰلِکَ، وَقَدْ قَرَأَ فِیْہَا (الْأَعْرَافَ) وَلَا نِصْفَہَا .
١٢٣٦: قعقاع بن حکیم نے حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے نقل کیا کہ ہم جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز مغرب ادا کرتے پھر محلہ بنی سلمہ میں آتے تو اس وقت تیر پھینکنے کے مقامات ابھی نظر آتے تھے۔ (مناسب روشنی ہوتی)
تخریج : عبدالرزاق ١؍٥٥١۔
حاصل روایات : یہ نکلا کہ نماز مغرب پڑھ کر تیر اندازی کی جاسکے اور تیر پھینکنے کی جگہ ثلث میل تک صاف نظر پڑے تو ممکن نہیں کہ نماز مغرب میں سورة اعراف پڑھی جائے اور اسی کا معمول ہو سورة اعراف پڑھنے کی صورت میں تو عشاء کا وقت قریب آ لگے گا چہ جائیکہ تیر اندازی کی جاسکے۔