۱۲۸۴ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا وَہْبٌ، قَالَ ثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ دِیْنَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : (یَکْفِیْکَ قِرَائَ ۃُ الْاِمَامِ) .فَہٰؤُلَائِ جَمَاعَۃٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَدْ أَجْمَعُوْا عَلٰی تَرْکِ الْقِرَائَ ۃِ خَلْفَ الْاِمَامِ .وَقَدْ وَافَقَہُمْ عَلٰی ذٰلِکَ، مَا قَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِمَّا قَدَّمْنَا ذِکْرَہٗ، وَشَہِدَ لَہُمُ النَّظَرُ بِمَا قَدْ ذَکَرْنَا، فَذٰلِکَ أَوْلٰی مِمَّا خَالَفَہٗ.
١٢٨٤: عبداللہ بن دینار نے عبداللہ بن عمر (رض) سے نقل کیا کہ (امام کے پیچھے) تمہیں امام کی قراءت کافی ہے۔ یہ اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جماعت ہے جو امام کے پیچھے قراءت کے چھوڑنے پر متفق ہے اور اس کے موافق رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کا ارشاد بھی ہے اور صحیح نظر و فکر بھی اس کے موافق ہے اور یہ اس کی مخالفت کرنے والوں کے مسلک سے بہتر قول ہے۔
تخریج : مصنف ابن ابی شیبہ ١؍٣٧٦۔
حاصل آثار :
امام کے پیچھے قراءت نہ کرنے کے متعلق کثیر صحابہ کرام (رض) کا فتویٰ اور عمل یہی تھا کہ قراءت نہ کی جائے بلکہ وہ قراءت خلف الامام کو پسند نہ کرتے تھے۔
فیصلہ طحاوی :
سابقہ روایات جو مؤقف ثانی میں پیش کی گئیں وہ ان فتاویٰ صحابہ کرام (رض) کی موافقت کرنے والی ہیں اور نظر و فکر کا فیصلہ بھی اسی حق میں ہے پس ان روایات کو اختیار کرنا پہلی روایات کو اختیار کرنے سے اولیٰ و افضل ہے۔
حاصل روایات : اس باب میں بھی روایات مؤقف ثانی کو پیش کر کے پھر نظر طحاوی کو لائے اور آخر میں تائید کے لیے عمل و فتاویٰ صحابہ کرام (رض) کو پیش کیا اور اس فاتحہ خلف الامام کے اختلاف کو اولویت کا اختلاف قرار دیا آج کل کے جدید مجتہدین کی طرح کفر و اسلام کا مسئلہ نہیں بنایا۔