۱۲۸۵ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ عِمْرَانَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ خَیْثَمَۃَ قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ حَمَّادٍ عَنْ شُعْبَۃَ عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ ابْنِ عِمْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبْزٰی، عَنْ أَبِیْہِ أَنَّہٗ صَلّٰی مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَکَانَ لَا یُتِمُّ التَّکْبِیْرَ۔
١٢٨٥: ابن عمران نے ابن عبدالرحمن بن ابزی عن ابیہ سے نقل کیا کہ میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز ادا کی تو آپ تکبیرات پوری نہ کرتے تھے (کم تکبیرات کہتے) (ابو داؤد کہتے ہیں اس کا معنی یہ ہے کہ رکوع سے سجدے کی طرف جاتے تکبیر نہ کہتے تھے اسی طرح سجدے سے قیام کے وقت تکبیر نہ کہا کرتے تھے)
تخریج : ابو داؤد فی الصلاۃ باب ١٣٦‘ نمبر ٨٣٧‘ مسند احمد ٣؍٤٠٦؍٤٠٧‘ بیہقی سنن کبریٰ ٢؍٦٨‘ مصنف ابن ابی شیبہ فی الصلاۃ ١؍٢٤١؍٢٤٢۔
خلاصہ الزام : حضرت عمر بن عبدالعزیز اور ابن سیرین ‘ قاسم بن محمد وسالم (رح) کے ہاں جھکتے وقت سجدہ تک کوئی تکبیر نہیں جب سجدہ سے اٹھیں گے تو تمام تکبیرات کہی جائیں گی۔
نمبر ": ائمہ ثلاثہ جمہور فقہاء و محدثین (رح) کے ہاں جھکتے و اٹھتے وقت تکبیر کہنا مسنون و مشروع ہے امام احمد کے ہاں واجب ہے۔