hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1286

.

الطحاوي

1286
Al Tahawi
۱۲۸۶ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ، قَالَ : ثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوْقٍ، قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ، فَذَکَرَ مِثْلَہٗ بِإِسْنَادِہٖ. قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی ھٰذَا، فَکَانُوْا لَا یُکَبِّرُوْنَ فِی الصَّلَاۃِ اِذَا خَفَضُوْا، وَیُکَبِّرُوْنَ اِذَا رَفَعُوْا، وَکَذٰلِکَ کَانَتْ بَنُوْ أُمَیَّۃَ تَفْعَلُ ذٰلِکَ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَکَبَّرُوْا فِی الْخَفْضِ وَالرَّفْعِ جَمِیْعًا، وَذَہَبُوْا فِیْ ذٰلِکَ إِلٰی مَا تَوَاتَرَتْ بِہٖ الْآثَارُ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .
١٢٨٦: عمرو بن مرزوق کہتے ہیں کہ ہمیں شعبہ نے اپنی سند کے ساتھ روایت نقل کی ہے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کچھ لوگوں نے یہ رائے اختیار کی کہ وہ جھکتے وقت تکبیر نہیں کہتے اور جب سر اٹھاتے ہیں تو اس وقت تکبیر کہتے ہیں اور بنو امیہ کے لوگ اسی طرح کرتے تھے۔ دوسرے علماء نے ان کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جھکتے اور اٹھتے دونوں وقت تکبیر کہی جائے گی اور اس سلسلے میں ان روایاتِ کثیرہ سے انھوں نے استدلال کیا۔
تخریج : بیہقی ٢؍١٠٠۔
حاصل روایات : وہ تکبیر جھکتے وقت نہ کہتے تھے البتہ اٹھتے وقت تکبیر کہتے تھے خلفاء بنی امیہ کا طرز عمل یہی تھا بعض نے حضرت عثمان (رض) کی نسبت اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔
روایت کا جواب :
یہ مجمل روایت ہے : لا یتم التکبیر کے الفاظ سے تکبیر نہ کہنے پر استدلال ہی درست نہیں تفصیلی روایت سے اس کا معاملہ معلوم ہوگا نیز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دیگر صحابہ کرام (رض) سے تواتر کے ساتھ یہ عمل منقول ہے اس کے مقابلہ میں ایک مجمل روایت کیونکر معتبر ہوگئی۔
مؤقف ِدوم :
ہر جھکنے اور اٹھنے کے وقت تکبیر مسنون ہے جو بہت سے آثار و روایات سے ثابت ہے ملاحظہ ہوں۔