hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1355

.

الطحاوي

1355
Al Tahawi
۱۳۵۵ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَاصِمٍ، وَأَبُوْ عَامِرٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ مَیْسَرَۃَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ أَخْبَرَنِیْ أَحْمَرُ صَاحِبُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہٗ .فَلَمَّا کَانَتِ السُّنَّۃُ، فِیْمَا ذَکَرْنَا، تَفْرِیْقَ الْأَعْضَائِ لَا إِلْصَاقَہَا، کَانَتْ فِیْمَا ذَکَرْنَا أَیْضًا کَذٰلِکَ فَثَبَتَ بِثُبُوْتِ النَّسْخِ الَّذِیْ ذَکَرْنَا، وَبِالنَّسْخِ الَّذِیْ وَصَفْنَا، انْتِفَائُ التَّطْبِیْقِ وَوُجُوْبُ وَضْعِ الْیَدَیْنِ عَلَی الرُّکْبَتَیْنِ .وَہُوَ قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی .
١٣٥٥: حسن کہتے ہیں کہ مجھے حضرت احمر (رض) صاحب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خبر دی پھر اسی طرح کی روایت بیان کی۔ جب سنت یہی ٹھہری جیسا کہ ہم نے ذکر کردیا کہ اعضاء کو متفرق رکھا جائے نہ کہ ان کو ملایا جائے۔ تو اس نسخ سے جس کا ہم نے سابقہ سطور میں ذکر کیا تاکہ روایات میں تطبیق ہوجائے تو اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ دونوں گھٹنوں پر ہاتھ رکھنا لازم ہے۔ اور یہی امام ابوحنیفہ ‘ امام ابو یوسف ‘ امام محمد (رح) کا مسلک ہے۔
حاصل روایات : یہ ہے کہ سجدہ میں پیٹ کو رانوں سے الگ رکھا جائے گا اور زمین سے پیٹ کو یوں بلند کیا جائے کہ بغل کی سفیدی نظر آجائے۔
نتیجہ جب سجدہ میں اعضاء کا الگ رکھا سنت ہے نہ کہ ملانا تو رکوع میں بھی ہاتھوں کا الگ رکھنا مسنون ہوگا۔
باقی سابقہ سطور میں مذکور ناسخ روایات اور جو بات ہم نے نظری طور پر لکھی ہے اس سے تطبیق کی نفی ثابت ہو کر گھٹنوں پر ہاتھوں کے رکھنے کا وجوب ثابت ہوگیا۔
یہی امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد (رح) کا مسلک ہے۔
نوٹ : اس باب میں ناسخ روایات کو قوت سے پیش کر کے ان کے لیے تائیدی طور طویل پر نظری دلیل پیش کرتے کرتے اس کے بعض اجزاء کے ثبوت میں بھی کئی روایات سجدہ کی صحیح کیفیت کی ذکر کردیں پھر تمام باب کا نتیجہ بھی ذکر کیا جو کہ اب تک عادت تحریر کے خلاف ہے۔