hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1356

.

الطحاوي

1356
Al Tahawi
۱۳۵۶ : حَدَّثَنَا رَبِیْعُ ڑالْمُؤَذِّنُ، قَالَ : ثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ : ثَنَا ابْنُ أَبِیْ ذِئْبٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ زَیْدٍ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ قَالَ (اِذَا قَالَ أَحَدُکُمْ فِیْ رُکُوْعِہٖ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ ثَلَاثًا، فَقَدْ تَمَّ رُکُوْعُہٗ وَذٰلِکَ أَدْنَاہُ، وَإِذَا قَالَ فِیْ سُجُوْدِہٖ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْأَعْلٰی ثَلَاثًا فَقَدْ تَمَّ سُجُوْدُہٗ وَذٰلِکَ أَدْنَاہُ)
١٣٥٦: عون بن عبداللہ نے حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنے رکوع میں سبحان ربی العظیم تین مرتبہ کہے پس اس کا رکوع مکمل ہوگیا اور یہ اس کا کم ترین درجہ ہے اور جب اپنے سجدہ میں اس نے سبحان ربی الاعلیٰ تین مرتبہ کہہ دیا تو اس کا سجدہ مکمل ہوگیا اور یہ اس کا ادنیٰ درجہ ہے۔
تخریج : ابو داؤد فی الصلاۃ باب ١٥٠‘ نمبر ٨٨٦‘ ترمذی فی الصلاۃ باب ٧٩‘ نمبر ٢٦١۔
خلاصہ الزام : رکوع و سجدہ میں ٹھہرنے کی مقدار میں اختلاف ہے۔
نمبر !: امام احمد (رح) ابراہیم نخعی (رح) اور اہل ظواہر کہتے ہیں کہ تین مرتبہ سجدہ ‘ رکوع کی تسبیح کے بقدر فرض ہے ورنہ رکوع ‘ سجدہ ادا نہ ہوں گے۔
نمبر ": احناف ‘ شوافع و مالکیہ ‘ جمہور فقہاء و محدثین اتنی دیر رکوع و سجود کو فرض مانتے جس میں طمانیت حاصل ہوجائے اس سے زائد کو سنت و مستحب کہتے ہیں۔
مؤقف اول : رکوع و سجود تین مرتبہ تسبیح کی مقدار فرض ہے۔