۱۳۸۴ : حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِیْ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِی الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ : کُنَّا لَا نَدْرِیْ مَا نَقُوْلُ بَیْنَ کُلِّ رَکْعَتَیْنِ، غَیْرَ أَنَّا نُسَبِّحُ وَنُکَبِّرُ وَنَحْمَدُ رَبَّنَا، وَإِنَّ مُحَمَّدًا أُوْتِیَ فَوَاتِحَ الْکَلِمِ وَجَوَامِعَہُ، أَوْ قَالَ : خَوَاتِمَہُ فَقَالَ : اِذَا قَعَدْتُمْ فِی الرَّکْعَتَیْنِ فَقُوْلُوْا فَذَکَرَ التَّشَہُّدَ ثُمَّ یَتَخَیَّرُ أَحَدُکُمْ مِنَ الدُّعَائِ مَا أَعْجَبَہُ إِلَیْہِ، فَیَدْعُوْا بِہٖ رَبَّہٗ) .
١٣٨٤: ابوالاحوص نے عبداللہ (رض) سے نقل کیا کہ ہم پہلے نہ جانتے تھے کہ دو رکعتوں کے درمیان کیا کہیں ہم فقط تسبیح و تکبیر وحمد پڑھتے تھے اور یہ کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو واضح کلمات اور جامع کلمات یا انتہائی کامل کلمات دیئے گئے ہیں (ہم کہتے تھے) اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب دو رکعات کے بعد قعدہ کرو تو تم اس طرح کہو پھر تشہد ابن مسعود (رض) ذکر کیا (یعنی التحیات اللہ والصلوات والطیبات آخر تک) پھر فرمایا تم اپنی پسندیدہ دعا پڑھو جس میں اپنے رب سے مانگو۔
تخریج : بخاری فی الاذان باب ١٥٠‘ مسلم فی الصلاۃ ٥٧؍٥٨‘ ابو داؤد فی الصلاۃ باب ١٧٨‘ مسند احمد ١؍٣٨٢؍٤١٣‘ ٤٢٨؍٤٣١۔