۱۳۸۵ : حَدَّثَنَا رَبِیْعُ ڑالْمُؤَذِّنُ قَالَ : ثَنَا أَسَدٌ قَالَ : ثَنَا الْفُضَیْلُ بْنُ عِیَاضٍ، عَنْ مَنْصُوْرِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ شَقِیْقٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، مِثْلَہٗ غَیْرَ أَنَّہٗ قَالَ : (ثُمَّ لِیَتَخَیَّرْ مِنَ الْکَلَامِ بَعْدُ مَا شَائَ) .فَأُبِیْحَ لَہٗ ہَاہُنَا أَنْ یَخْتَارَ مِنَ الدُّعَائِ مَا أَحَبَّ، لِأَنَّ مَا سِوَاہُ مِنَ الصَّلَاۃِ بِخِلَافِہٖ .مِنْ ذٰلِکَ مَا ذَکَرْنَا مِنَ التَّکْبِیْرِ فِیْ مَوَاضِعِہِ، وَمِنَ التَّشَہُّدِ فِیْ مَوَاضِعِہِ، وَمِنَ الْاِسْتِفْتَاحِ فِیْ مَوْضِعِہٖ‘ وَمِنَ التَّسْلِیْمِ فِیْ مَوْضِعِہٖ‘ فَجُعِلَ ذٰلِکَ ذِکْرًا خَاصًّا غَیْرَ مُتَعَدٍّ إِلَیْ غَیْرِہٖ .فَالنَّظَرُ عَلٰی ذٰلِکَ، أَنْ یَکُوْنَ کَذٰلِکَ، الذِّکْرُ فِی الرُّکُوْعِ وَالسُّجُوْدِ، ذِکْرًا خَاصًّا، لَا یُتَعَدَّی إِلَیْ غَیْرِہٖ .
١٣٨٥: شقیق نے عبداللہ (رض) سے روایت نقل کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی طرح بات فرمائی جیسے اوپر والی روایت میں فرمایا گیا ہے البتہ اس قدر فرق ہے : ’ ثم یتخیر من الکلام بعد ماشائ “ ۔ پس ان کے لیے مباح کیا گیا کہ وہ پسندیدہ دعا کا چناؤ کرے اس کے علاوہ اذکار کا مسئلہ اس سے مختلف ہے کہ وہ تکبیر ‘ تشہید ‘ استفتاح ‘ تسلیم اپنے اپنے مقام پر ادا کیے جائیں گے۔ پس اس کو بھی خاص ذکر بنایا گیا جو دوسرے مقام کی طرف کرنے والا نہیں ہے۔
تخریج : سابقہ تخریج ملاحظہ ہو۔
حاصل ہر دو روایات یہ ہے کہ وہ پسندیدہ دعا کا چناؤ کرے کیونکہ بقیہ نماز اس کے خلاف ہے جیسا کہ ہم نے کہا تکبیر اپنے مقام پر تشہد اپنے مقام پر اور استفتاح کی تکبیر اپنے مقام پر اور سلام اپنے مقام پر پس ان تمام کو ایسا ذکر قرار دیا گیا جو دوسرے کی طرف متعدی نہیں ہے۔
نتیجہ کلام :
تقاضہ نظر و فکر یہ ہے کہ رکوع و سجود کا ذکر بھی ایک ذکر ہے جو دوسرے کی طرف متعدی نہ ہوگا بلکہ اس کے ساتھ مخصوص رہے گا۔
حاصل روایات : اس باب میں فریق ثانی کا مؤقف جو امام کو پسند ہے اس کی موافقت کرتے ہوئے طویل نظری دلیل پیش کی کہ جس کے بعض حصوں کی وضاحت کے لیے روایات بھی ذکر کیں۔