۱۴۲۸ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ نُعَیْمٍ قَالَ : ثَنَا ہِشَامُ الدَّسْتُوَائِیُّ، عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : قَنَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ شَہْرًا بَعْدَ الرُّکُوْعِ، یَدْعُوْ عَلٰی حَیٍّ مِنْ أَحْیَائِ الْعَرَبِ، ثُمَّ تَرَکَہُ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی إِثْبَاتِ الْقُنُوْتِ فِیْ صَلَاۃِ الْفَجْرِ ثُمَّ افْتَرَقُوْا فِرْقَتَیْنِ .فَقَالَتْ فِرْقَۃٌ مِنْہُمْ ہُوَ بَعْدَ الرُّکُوْعِ وَقَالَتْ فِرْقَۃٌ قَبْلَ الرُّکُوْعِ .وَمِمَّنْ قَالَ ذٰلِکَ مِنْہُمْ ابْنُ أَبِیْ لَیْلَی وَمَالِکُ بْنُ أَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا۔
١٤٢٨: قتادہ نے حضرت انس (رض) سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رکوع کے بعد ایک ماہ تک قنوت پڑھی آپ اس میں عرب کے بعض قبائل کے متعلق دعا فرماتے تھے پھر آپ نے چھوڑ دی۔ امام طحاوی (رح) کہتے ہیں کہ بعض لوگ نماز فجر میں قنوت کو ثابت کرتے ہیں پھر وہ دو جماعتوں میں تقسیم ہوگئے ان میں سے ایک جماعت نے کہا کہ یہ رکوع کے بعد ہے جبکہ دوسرے گروہ نے کہا کہ یہ رکوع سے پہلے ہے اور جنہوں نے یہ کہا وہ ابن ابی لیلیٰ اور مالک بن انس (رض) ہیں۔
تخریج : بخاری فی الوتر باب ٧‘ مسلم فی المساجد نمبر ٣٠٠۔
حاصل روایات : ان روایات میں فجر کی نماز میں قنوت کا پڑھنا ثابت ہو رہا ہے اور بعض روایات سے دوام اور بعض سے آپ کا کچھ وقت تک کے لیے پڑھنا ثابت ہوتا ہے بعدالرکوع کی روایات کثرت سے ہیں جبکہ رکوع سے پہلے بھی ثابت ہے اسی وجہ سے ابن ابی لیلیٰ اور امام مالک (رح) نے رکوع سے پہلے پڑھنے کا کہا ہے چنانچہ امام مالک کا قول اس طرح منقول ہے۔