hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1429

.

الطحاوي

1429
Al Tahawi
۱۴۲۹ : کَمَا حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ : سَمِعْتُ مَالِکًا یَقُوْلُ الَّذِیْ أَخَذْتُہُ فِی خَاصَّۃِ نَفْسِی الْقُنُوْتُ فِی الْفَجْرِ قَبْلَ الرُّکُوْعِ .فَکَانَ مِنْ حُجَّۃِ مَنْ ذَہَبَ مِنْہُمْ إِلٰی أَنَّہٗ بَعْدَ الرُّکُوْعِ مَا ذَکَرْنَاہُ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ وَابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا وَعَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِیْ بَکْرٍ .وَکَانَتَ الْحُجَّۃُ عَلَیْہِمْ لِلْفَرِیْقِ الْآخَرِ، مَا ذَکَرْنَاہُ فِیْ حَدِیْثِ سُفْیَانَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا قَنَتَ بَعْدَ الرُّکُوْعِ شَہْرًا، وَإِنَّمَا الْقُنُوْتُ قَبْلَ الرُّکُوْعِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ، فَقَالُوْا لَا نَرَی الْقُنُوْتَ فِیْ صَلَاۃِ الْفَجْرِ أَصْلًا قَبْلَ الرُّکُوْعِ وَلَا بَعْدَہٗ .وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ أَنَّ ھٰذِہِ الْآثَارَ الْمَرْوِیَّۃَ فِی الْقُنُوْتِ، قَدْ رُوِیَتْ عَلٰی مَا ذَکَرْنَا .فَکَانَ أَحَدُ مَنْ رَوٰی ذٰلِکَ عَنْہُ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَدْ رَوَیْنَا عَنْہُ فِیْہَا (أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَنَتَ ثَلَاثِیْنَ یَوْمًا) .فَکَانَ قَدْ ثَبَتَ عِنْدَہٗ قُنُوْتُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَعِلْمُہٗ ثُمَّ قَدْ وَجَدْنَا عَنْہُ۔
١٤٢٩: ابن وہب کہتے ہیں کہ میں نے امام مالک (رح) کو یہ کہتے سنا کہ میرے دل میں جو بات بیٹھی ہے وہ یہ ہے کہ قنوت فجر میں رکوع سے پہلے پڑھی جائے۔ جن حضرات کے ہاں رکوع کے بعد قنوت ہے ان کی مستدل روایات ابوہریرہ (رض) ابن عمر اور عبدالرحمن بن ابی بکر (رض) سے مروی ہیں ان کے خلاف دوسری جماعت کا کہنا ہے قنوت صرف ایک ماہ پڑھی گئی اور قنوت رکوع سے پہلے ہے ان کی مستدل روایات میں انس (رض) کی روایت ہے کہ قنوت جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک ماہ پڑھی اور رکوع سے پہلے پڑھی ان دونوں کو فریق اوّل کے عنوان سے ذکر کر کے یہ روایات ذکر کردی گئی ہیں۔ دوسرے حضرات نے اس سلسلے میں ان کی مخالفت کرتے ہوئے یہ دلیل دی کہ قنوت کے سلسلہ میں آنے والی روایات جن کا ہم نے ذکر کیا ہے ‘ ان میں سے ایک راوی حضرت ابن مسعود (رض) ہیں ہم نے ان کی روایت بھی نقل کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیس روز تک قنوت پڑھی۔ پس ان کے ہاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قنوت پڑھنا ثابت و معلوم تھا۔ پھر ہم نے یہ روایت پائی۔
فریق ثانی کا مؤقف :
فجر میں قنوت نہ رکوع سے پہلے ہے اور نہ بعد میں باقی ان روایات کے بالتفصیل جواب ملاحظہ فرمائیں۔
جواب روایت ابن مسعود (رض) :
اس روایت کا حاصل یہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیس دن تک قنوت پڑھی گویا انھوں نے آپ کی قنوت معلوم کی اب انہی سے مروی دیگر روایات ملاحظہ فرمائیں تاکہ اس روایت کا موقوف ہونا معلوم ہوجائے۔