۱۴۵۲ : حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مَنْصُوْرٍ قَالَ : سَمِعْتُ اِبْرَاہِیْمَ یُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُوْنٍ نَحْوَہٗ قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَھٰذَا خِلَافُ مَا رُوِیَ عَنْہُ فِی الْآثَارِ الْأُوَلِ .فَاحْتَمَلَ أَنْ یَکُوْنَ قَدْ کَانَ فَعَلَ کُلَّ وَاحِدٍ مِنَ الْأَمْرَیْنِ فِیْ وَقْتٍ .فَنَظَرْنَا فِیْ ذٰلِکَ۔
١٤٥٢: ابراہیم نے عمرو بن میمون سے اسی طرح کا مضمون بیان کیا ہے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں یہ روایات ان روایات کے مخالف ہیں جو انہی حضرات سے شروع باب میں آئی ہیں۔ پس اس میں یہ احتمال ہے کہ آپ نے دونوں کام ایک الگ الگ وقت میں کیے ہیں ‘ چنانچہ اس سلسلہ میں دیکھا تو یہ روایات سامنے آئیں۔
تخریج : تہذیب الآثار طبری۔
خلاصہ اقوال بالا :
عمر (رض) فجر میں قنوت نہ پڑھتے تھے یہ پہلے عمل کے بالکل خلاف ہے۔
امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں اس میں دونوں احتمال ہیں کہ کبھی قنوت کو اختیار کیا اور کبھی ترک کردیا جیسا اس اثر سے ظاہر ہوتا ہے۔