۱۴۵۳ : فَإِذَا یَزِیْدُ بْنُ سِنَانٍ قَدْ حَدَّثَنَا، قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیْدٍ قَالَ : ثَنَا مِسْعَرُ بْنُ کِدَامٍ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مَیْسَرَۃَ، عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ، قَالَ : رُبَّمَا قَنَتَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ .فَأَخْبَرَ زَیْدٌ بِمَا ذَکَرْنَا أَنَّہٗ کَانَ رُبَّمَا قَنَتَ، وَرُبَّمَا لَمْ یَقْنُتْ .فَأَرَدْنَا أَنْ نَنْظُرَ فِی الْمَعْنَی الَّذِیْ لَہٗ کَانَ یَقْنُتُ مَا ہُوَ؟
١٤٥٣: زید بن وہب نے کہا عمر (رض) نے بسا اوقات قنوت کی ہے۔ پس حضرت زید نے یہ بتلایا کہ حضرت عمر (رض) کبھی قنوت پڑھتے اور کبھی نہ پڑھتے۔ پس اب دیکھنا چاہیے کہ آپ کی قنوت کس سبب سے تھی ‘ تو یہ روایت مل گئی۔
تخریج : ابن ابی شیبہ ٣؍١٠٤۔
حاصل اثر :
کہ بعض اوقات قنوت کی اور بعض اوقات اس کو ترک کیا۔
نوٹ : قابل توجہ بات یہ ہے کہ جو قنوت آپ نے کی ہے اس کی کیا حقیقت ہے مندرجہ روایت اس بات کو ظاہر کرتی ہے۔