۱۴۶۰ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا مُحْرِزُ بْنُ ہِشَامٍ قَالَ : ثَنَا جَرِیْرٌ عَنْ مُغِیْرَۃَ عَنْ اِبْرَاہِیْمَ قَالَ : إِنَّمَا کَانَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یَقْنُتُ فِیْہَا ہَاہُنَا لِأَنَّہٗ کَانَ مُحَارِبًا، فَکَانَ یَدْعُوْ عَلٰی أَعْدَائِہِ فِی الْقُنُوْتِ فِی الْفَجْرِ وَالْمَغْرِبِ .فَثَبَتَ بِمَا ذَکَرْنَا أَنَّ مَذْہَبَ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فِی الْقُنُوْتِ، ہُوَ مَذْہَبُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ الَّذِیْ وَصَفْنَا .وَلَمْ یَکُنْ عَلِیٌّ یَقْصِدُ بِذٰلِکَ إِلَی الْفَجْرِ خَاصَّۃً لِأَنَّہٗ قَدْ کَانَ یَفْعَلُ ذٰلِکَ فِی الْمَغْرِبِ فِیْمَا ذَکَرَ اِبْرَاہِیْمُ .
١٤٦٠: مغیرہ نے ابراہیم سے نقل کیا کہ علی (رض) یہاں اس لیے قنوت پڑھتے تھے کہ وہ اس وقت حالت جنگ میں تھے چنانچہ وہ اپنے مخالفین کے لیے فجر و مغرب میں قنوت پڑھا کرتے تھے۔ مندرجہ بالا روایت سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ جناب علی (رض) کا طرز عمل اس سلسلہ میں حضرت عمر (رض) جیسا تھا۔ جناب علی (رض) اس کو نماز فجر میں مقصود بنا کر نہ پڑھتے تھے بلکہ ابراہیم کے بیان کے مطابق آپ مغرب میں بھی اسی طرح کرتے تھے۔
تخریج : ابن ابی شیبہ ٢؍١٠٩۔
خلاصہ آثار :
ان دونوں آثار سے یہ بات ثابت کردی کہ علی (رض) کا مؤقف قنوت کے سلسلہ میں عمر (رض) والا تھا وہ بھی فجر میں قنوت کو خاص طور پر نہ پڑھتے تھے بلکہ بقول ابراہیم ایام حرب میں مغرب میں بھی پڑھ لیا کرتے تھے۔