hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1461

.

الطحاوي

1461
Al Tahawi
۱۴۶۱ : حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ دَاوٗدَ عَنْ شُعْبَۃَ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ حُصَیْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ مَعْقِلٍ یَقُوْلُ : صَلَّیْتُ خَلْفَ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ الْمَغْرِبَ فَقَنَتَ وَدَعَا .فَکُلٌّ قَدْ أَجْمَعَ أَنَّ الْمَغْرِبَ لَا یُقْنَتُ فِیْہَا اِذَا لَمْ یَکُنْ حَرْبٌ، وَأَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ إِنَّمَا کَانَ قَنَتَ فِیْہَا مِنْ أَجْلِ الْحَرْبِ، فَقُنُوْتُہٗ فِی الْفَجْرِ أَیْضًا عِنْدَنَا - کَذٰلِکَ .وَأَمَّا ابْنُ عَبَّاسٍ، فَرُوِیَ عَنْہُ فِیْ ذٰلِکَ۔
١٤٦١: عبدالرحمن بن معقل کہتے ہیں کہ میں نے علی (رض) کے پیچھے نماز ادا کی آپ نے اس میں قنوت پڑھی اور دعا کی۔ سب کا اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ مغرب کی نماز میں قنوت حالت جنگ کے علاوہ میں نہ پڑھی جائے اور حضرت علی (رض) نے جنگ کی بناء پر پڑھی۔ پس ثابت ہوگیا کہ آپ کا نماز فجر میں قنوت پڑھنا اسی بناء پر تھا ‘ البتہ ابن عباس (رض) کی روایات یہ ہیں۔
تخریج : ابن ابی شیبہ ٢؍١٠٩۔
اس پر تو فریق اوّل کو بھی اتفاق ہے کہ مغرب میں جنگ کے علاوہ اوقات میں قنوت نہیں اور علی (رض) نے جنگ کے حالات میں مغرب کی نماز میں قنوت کی ہے پس ان کی قنوت فجر بھی ہمارے احناف کے ہاں اسی حکم میں ہے اس کی مشروعیت کے متعلق مغرب کی طرح آپ کو بھی اتفاق کرنا چاہیے۔
حضرت ابن عباس (رض) کا قنوت کے متعلق طرز عمل :
حضرت ابن عباس (رض) سے بھی قنوت کے متعلق دو قسم کی روایات وارد ہیں ملاحظہ ہوں۔
قسم اول : قنوت پڑھتے تھے۔