۱۴۸ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیْرٍ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَیْسَرَۃَ ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَۃَ قَالَ : ( رَأَیْتُ عَلِیًّا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ صَلَّی الظُّہْرَ ثُمَّ قَعَدَ لِلنَّاسِ فِی الرَّحْبَۃِ ثُمَّ أُتِیَ بِمَائٍ فَمَسَحَ بِوَجْہِہٖ وَیَدَیْہِ وَمَسَحَ بِرَأْسِہٖ وَرِجْلَیْہِ وَشَرِبَ فَضْلَہٗ قَائِمًا ثُمَّ قَالَ : إِنَّ نَاسًا یَزْعُمُوْنَ أَنَّ ھٰذَا یُکْرَہُ وَإِنِّی رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَصْنَعُ مِثْلَ مَا صَنَعْتُ وَھٰذَا وُضُوْئُ مَنْ لَمْ یُحْدِثْ).قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : وَلَیْسَ فِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ - عِنْدَنَا - دَلِیْلٌ أَنَّ فَرْضَ الرِّجْلَیْنِ ہُوَ الْمَسْحُ لِأَنَّ فِیْہِ أَنَّہٗ قَدْ مَسَحَ وَجْہَہٗ ، فَکَانَ ذٰلِکَ الْمَسْحُ ہُوَ غَسْلٌ فَقَدْ یُحْتَمَلُ أَنْ یَکُوْنَ مَسْحُہٗ بِرِجْلِہٖ أَیْضًا کَذٰلِکَ .
١٤٨ : نزال سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی مرتضیٰ (رض) کو دیکھا کہ انھوں نے نماز ظہر ادا کی پھر لوگوں کی ملاقات کے لیے وسیع جگہ میں بیٹھ گئے پھر ان کے پاس پانی لایا گیا انھوں نے اسے اپنے چہرے اور ہاتھوں پر ملا اور سر اور دونوں پاؤں کا مسح کیا اور جو بچ رہا اسے کھڑے ہو کر پیا پھر فرمایا کچھ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ یہ مکروہ و ناپسندیدہ ہے بلاشبہ میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا ہ وہ اسی طرح کرتے جیسا میں نے کیا اور یہ اس کا وضو ہے جس کا وضو نہ ٹوٹا ہو۔ (کہ اعضاء کو تروتازہ کرلے) امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ ہمارے ہاں اس روایت میں پاؤں پر مسح کے فرض ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے کیونکہ اس روایت میں صرف اس قدر ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے چہرے کا مسح فرمایا اور یہ مسح درحقیقت ملنے کے بغیر دھونا ہے پس اس بات کا احتمال ہے کہ پاؤں کے مسح کا معنی بھی ملنے کے بغیر دھونا ہو جیسا کہ ان روایات میں ہے۔
قول طحاوی (رح) :
اس روایت میں ہمارے نزدیک کوئی ایسی چیز نہیں پائی جاتی جس کو پاؤں کے مسح کی فرضیت کے لیے پیش کرسکیں کیونکہ روایت میں تو چہرے پر ملنے کا تذکرہ ہے اور وہ چہرہ دھونے کو کہتے ہیں اسی طرح پاؤں پر ملنے کا مطلب بھی اسی طرح ہے۔
تخریج : بخاری فی الاشربہ باب ١٦‘ ابو داؤد فی الاشربہ باب ١٣‘ روایت نمبر ٣٧١٨ نسائی فی الطھارۃ باب ١٠٢ ١؍٨٧۔
نوٹ : جب پاؤں پر موزے نہ ہوں تو پاؤں کے دھونے کا حکم ہے یا مسح کا ؟
فریق اول : بعض نے مسح اور دھونے میں اختیار اور بعض نے مسح کا وجوب نقل کیا ہے (یہ اہل ظواہر و تشیع کا مذہب ہے)
فریق دوم : پاؤں کو دھونا ضروری ہے ائمہ اربعہ کا یہی مذہب ہے۔