۱۴۹۷ : وَبِمَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ بْنِ مُوْسٰی، قَالَ : ثَنَا سَہْلُ بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ : ثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ عَنْ أَبِیْ إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَائِ، قَالَ : سَأَلْتُہٗ أَیْنَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَضَعُ جَبْہَتَہٗ اِذَا صَلَّی قَالَ : بَیْنَ کَفَّیْہِ .فَکَانَ کُلُّ مَنْ ذَہَبَ فِی الرَّفْعِ فِی افْتِتَاحِ الصَّلَاۃِ إِلَی الْمَنْکِبَیْنِ یَجْعَلُ وَضْعَ الْیَدَیْنِ فِی السُّجُوْدِ حِیَالَ الْمَنْکِبَیْنِ أَیْضًا وَکُلُّ مَنْ ذَہَبَ فِی الرَّفْعِ فِی افْتِتَاحِ الصَّلَاۃِ إِلَی الْأُذُنَیْنِ یَجْعَلُ وَضْعَ الْیَدَیْنِ فِی السُّجُوْدِ حِیَالَ الْأُذُنَیْنِ أَیْضًا .وَقَدْ ثَبَتَ فِیْمَا تَقَدَّمَ مِنْ ھٰذَا الْکِتَابِ تَصْحِیْحُ قَوْلِ مَنْ ذَہَبَ فِی الرَّفْعِ فِی افْتِتَاحِ الصَّلَاۃِ إِلَی حِیَالِ الْأُذُنَیْنِ فَثَبَتَ بِذٰلِکَ أَیْضًا قَوْلُ مَنْ ذَہَبَ فِیْ وَضْعِ الْیَدَیْنِ فِی السُّجُوْدِ حِیَالَ الْأُذُنَیْنِ أَیْضًا، وَہُوَ قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ، وَمُحَمَّدٍ.s
١٤٩٧: ابو اسحاق نے برائ (رض) سے نقل کیا کہ میں نے خود ان سے سوال کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھتے وقت سجدہ میں پیشانی کہاں رکھتے تو انھوں نے جواب دیا اپنی دونوں ہتھیلوں کے مابین۔ پس جو لوگ نماز کے شروع میں ہاتھوں کو کانوں تک اٹھانے کے قائل ہیں انہی کا قول یہ ہے سجدے میں بھی ہاتھ کندھوں کے برابر رکھے جائیں گے۔ اور جو ابتداء نماز میں ہاتھوں کو کانوں تک اٹھانے کا حکم دیتے ہیں وہ سجدے میں بھی ہاتھوں کو کانوں کے برابر رکھنے کو اختیار کرنے والے ہیں۔ اور کتاب الصلوۃ میں کانوں کو ہاتھوں تک اٹھانے والا مؤقف ثابت کیا جا چکا ہے۔ اس سے سجدہ میں ہاتھوں کو کانوں کے برابر رکھنے کا مؤقف خود ثابت ہوگیا۔ یہی امام ابوحنیفہ ‘ ابویوسف ‘ محمد (رح) کا قول ہے۔
تخریج : ترمذی فی الصلاۃ باب ٨٧‘ ٢٧١۔
حاصل روایات : ان چار روایات میں سجدہ کے دوران ہاتھوں کو کانوں کے برابر رکھنا معلوم ہو رہا ہے پس اس سے ثابت ہوگیا کہ یہی افضل ہے۔
لطیفہ : اصل بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ جو حضرات افتتاح صلوۃ میں کندھوں تک ہاتھ لے جانے کے قائل ہیں وہی سجدہ میں کندھوں کے برابر ہاتھوں کو رکھنے کے قائل ہیں اور جو تکبیر افتتاح میں کانوں تک ہاتھ لے جانے کے قائل ہیں وہ سجدہ میں کانوں کے برابر ہاتھوں کو رکھنے کے قائل ہیں۔
اور گزشتہ ابواب میں ہم ثابت کرچکے کہ افتتاحی تکبیر میں کون کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھانے والا ہے چنانچہ ہمارے ائمہ کے ہاں تکبیر افتتاح میں ہاتھوں کو کانوں کے برابر اٹھایا جاتا ہے اس لیے سجدہ میں بھی امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد (رح) کا قول یہی ہے کہ ہاتھوں کو کانوں کے برابر رکھا جائے۔
نوٹ : یہ باب بھی نظر طحاوی (رح) سے خالی ہے البتہ ایک لطیفہ افتتاحی تکبیر اور سجدہ میں ہاتھوں کے رکھنے کا یہاں ذکر کردیا اور افتتاحی تکبیر میں ہاتھوں کو کانوں تک اٹھانے کے دلائل اس باب میں کافی گزرے تھے یہاں ان کی طرف اشارہ کر کے چند دلائل پر اکتفاء کیا۔ اللہ ما تبصرہ۔