۱۴۹۸ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلٰی، قَالَ : أَنَا ابْنُ وَہْبٍ، أَنَّ مَالِکًا حَدَّثَہٗ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیْدٍ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ أَرَاہُمَ الْجُلُوْسَ فَنَصَبَ رِجْلَہُ الْیُمْنٰی وَثَنٰی رِجْلَہُ الْیُسْرٰی وَجَلَسَ عَلٰی وَرِکِہِ الْیُسْرٰی وَلَمْ یَجْلِسْ عَلٰی قَدَمَیْہِ ثُمَّ قَالَ : أَرَانِیْ ھٰذَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرٍ وَحَدَّثَنِیْ أَنَّ أَبَاہُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا کَانَ یَفْعَلُ ذٰلِکَ .
١٤٩٨: یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ قاسم بن محمد نے ہمیں تشہد میں بیٹھنا دکھایا پس انھوں نے دایاں پاؤں کھڑا کیا اور بایاں موڑ کر دوہرا کیا اور اپنی بائیں سرین کو زمین پر ٹیک کر بیٹھ گئے اور دونوں قدموں کے زور پر نہ بیٹھے پھر کہنے لگے یہ کیفیت مجھے عبداللہ بن عبداللہ بن عمرو (رض) نے کر کے دکھلائی ہے اور ساتھ یہ بھی کہا کہ میرے والد عبداللہ (رض) اسی طرح کرتے تھے۔
تخریج : ابو داؤد فی الصلاۃ باب ١٧٦‘ نمبر ٩٦١۔
خلاصہ الزام : تشہد قعدہ اولیٰ اور قعدہ ثانیہ جلسہ بین السجدتین میں تورک مسنون ہے یا دائیں پاؤں کو کھڑا کر کے بائیں پاؤں کے اوپر بیٹھا جائے۔
فریق اوّل :
امام مالک (رح) کہتے ہر سہ حالات میں تورک مسنون ہے۔
فریق ثانی :
امام شافعی واحمد (رح) قعدہ اولیٰ اور جلسہ میں دائیں پاؤں کو کھڑا کر کے بائیں پر بیٹھنا مسنون ہے اور قعدہ اخیرہ میں تورک مسنون ہے۔
فریق ثالث :
احناف ‘ ابن مبارک (رح) ہر سہ مواقع میں دائیں پاؤں کو کھڑا کر کے بائیں پر بیٹھنا مسنون ہے۔
فریق اوّل کا مؤقف :
قعدہ اولیٰ ‘ جلسہ اور قعدہ اخیرہ ہر سہ مقام پر تورک یعنی دائیں کو کھڑا کر کے بائیں پاؤں کو بچھا کر زمین پر بیٹھنا مسنون ہے۔