۱۵۰۲ : حَدَّثَنِیْ أَبُو الْحُسَیْنِ الْأَصْبَہَانِیُّ ہُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَخْلَدٍ قَالَ : ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ قَالَ : ثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَۃَ الدُّؤَلِیِّ فَذَکَرَ بِإِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ .فَھٰذَا یُوَافِقُ مَا ذَہَبَ إِلَیْہِ أَہْلُ ھٰذِہِ الْمَقَالَۃِ .وَقَدْ خَالَفَ فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : الْقُعُوْدُ فِی الصَّلَاۃِ کُلِّہَا سَوَائٌ عَلَی مِثْلِ الْقُعُوْدِ الْأَوَّلِ فِیْ قَوْلِ أَہْلِ الْمَقَالَۃِ الثَّانِیَۃِ یَنْصِبُ رِجْلَہُ الْیُمْنٰی وَیَفْتَرِشُ رِجْلَہُ الْیُسْرٰی فَیَقْعُدُ عَلَیْہَا. وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ۔
١٥٠٢: عبدالسلام بن حفص نے محمد بن عمرو بن حلحلہ سے پھر انھوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ یہ اس کے موافق ہے جو پہلے قول والوں نے اختیار کیا اور لوگوں نے ان کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ نماز میں پہلے قعدہ اسی طرح ہے جیسا دوسرے قول والوں نے کہا ہے کہ اپنے دائیں کو کھڑا کرلے اور بائیں کو بچھائے اور اس پر بیٹھ جائے۔ ان کی دلیل یہ روایت ہے۔
حاصل روایات : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قعدہ اخیرہ میں اسی طرح تورک فرمایا جیسا کہ فریق اوّل کہتا ہے اور قعدہ اولیٰ میں آپ دائیں پاؤں کو کھڑا کر کے بائیں پاؤں کو بچھا کر اس پر بیٹھے۔
فریق ثالث کا مؤقف :
نماز میں تمام قعود ایک ہی کیفیت کے حامل ہیں۔