۱۵۰۴ : حَدَّثَنَا فَہْدُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ : ثَنَا الْحِمَّانِیُّ، قَالَ : ثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَاصِمٍ فَذَکَرَ بِإِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَھٰذَا یُوَافِقُ مَا ذَہَبُوْا إِلَیْہِ مِنْ ذٰلِکَ .وَفِیْ قَوْلِ وَائِلٍ، ثُمَّ عَقَدَ أَصَابِعَہٗ یَدْعُوْ دَلِیْلٌ عَلٰی أَنَّہٗ کَانَ فِیْ آخِرِ الصَّلَاۃِ فَقَدْ تَضَادَّ ھٰذَا الْحَدِیْثُ وَحَدِیْثُ أَبِیْ حُمَیْدٍ فَنَظَرْنَا فِیْ صِحَّۃِ مَجِیْئِہِمَا وَاسْتِقَامَۃِ أَسَانِیْدِہِمَا .
١٥٠٤: خالد نے عاصم سے پھر انھوں نے اپنی اسناد سے روایت بیان کی ہے۔
حاصل روایات : یہ روایات اس کے بالکل مطابق ہے جس کی طرف فریق ثالث گئے ہیں اس میں ایک چیز ابو حمید والی روایت کے خلاف ہے۔
ایک اشکال :
جب دونوں صحیح روایات معارض ہیں تو آپ نے کس بناء پر وائل بن حجر (رض) کی روایت کو ترجیح دی ہے۔
الجواب نمبر !: ابو حمید (رض) والی روایت سند کے لحاظ سے نہایت کمزور ہے چنانچہ ملاحظہ فرمائیں۔