hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1516

.

الطحاوي

1516
Al Tahawi
۱۵۱۶ : وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ، وَفَہْدٌ قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ : حَدَّثَنِی اللَّیْثُ، قَالَ : حَدَّثَنِی ابْنُ الْہَادِ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، قَالَ : کَانَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا تُعَلِّمُنَا التَّشَہُّدَ وَتُشِیْرُ بِیَدِہَا، ثُمَّ ذَکَرَ مِثْلَہٗ .فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی ھٰذِہِ الْأَحَادِیْثِ، وَقَالُوْا: ھٰکَذَا التَّشَہُّدُ فِی الصَّلَاۃِ ؛ لِأَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَدْ عَلَّمَ ذٰلِکَ النَّاسَ عَلَی مِنْبَرِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِحَضْرَۃِ الْمُہَاجِرِیْنَ وَالْأَنْصَارِ، فَلَمْ یُنْکِرْ ذٰلِکَ عَلَیْہِ مِنْہُمْ مُنْکِرٌ .وَخَالَفَہُمْ، فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : لَوْ وَجَبَ مَا ذَکَرْتُمُوْہُ عِنْدَ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذًا لَمَا خَالَفَ أَحَدٌ مِنْہُمْ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فِیْ ذٰلِکَ فَقَدْ خَالَفُوْہُ فِیْہِ وَعَمِلُوْا بِخِلَافِہٖ .وَرَوٰی أَکْثَرُہُمْ ذٰلِکَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ. فَمِمَّنْ خَالَفَہٗ فِیْ ذٰلِکَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَرُوِیَ عَنْہُ فِیْ ذٰلِکَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔
١٥١٦: یحییٰ بن سعید نے قاسم سے انھوں نے نقل کیا کہ عائشہ صدیقہ (رض) ہمیں تشہد سکھاتیں اور اپنے ہاتھ سے اس کا اشارہ بتلاتی تھیں پھر اس طرح کا تشہد نقل کیا۔ بعض علماء کا رجحان ان روایات کی طرف گیا اور انھوں نے کہا کہ تشہد اسی طرح ہے کیونکہ حضرت عمر (رض) نے ممبر پر انصار و مہاجرین کی موجودگی میں سکھایا اور کسی نے بھی انکار نہیں کیا مگر دوسرے علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے نزدیک اگر یہی لازم ہوتا جیسا تم کہہ رہے ہو تو پھر کوئی صحابی بھی ان کی مخالفت نہ کرتا حالانکہ کئی حضرات نے ان کی نہ صرف مخالفت کی بلکہ اس کے خلاف عمل کیا اور ان کی اکثریت نے وہ تشہد جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہی نقل کیا ‘ ان مخالفت کرنے والوں میں ابن مسعود (رض) بھی ہیں ‘ انھوں نے بھی جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تشہد نقل کیا ہے جو یہ مذکور ہے۔
تخریج : موطا مالک فی الصلاۃ نمبر ٥٦‘ مصنف ابن ابی شیبہ ١؍٢٩٣۔
حاصل روایات : نماز میں اسی تشہد کا پڑھنا افضل ہے کیونکہ جناب عمر (رض) نے لوگوں کو منبر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ تشہد مہاجرین و انصار کے مجمع میں سکھایا اور ان پر کسی نے نکیر نہ کی پس اس کی افضلیت پر اجماع ہوگیا۔
مؤقف فریق ثانی و ثالث :
کہ اس کے علاوہ تشہد بھی موجود ہیں جن کا احادیث میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سکھانا منقول ہے جیسا آئندہ روایات سے ثابت ہوگا۔
جواب دلیل فریق اوّل :
وخالفہم فی ذلک تمہارا یہ کہنا درست نہیں کہ یہ تشہد ضروری ہے اگر ایسا ہوتا تو دیگر صحابہ میں سے کسی سے بھی اس کے خلاف تشہد منقول نہ ہوتا سب بےپہلے عبداللہ بن مسعود (رض) جنہوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس سے مختلف تشہد نقل کیا ہے۔ روایت ابن مسعود (رض) ملاحظہ ہو۔