hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1517

.

الطحاوي

1517
Al Tahawi
۱۵۱۷ : مَا حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ دَاوٗدَ، وَوَہْبٌ، وَأَبُوْ عَامِرٍ، قَالُوْا : ثَنَا ہِشَامٌ الدَّسْتُوَائِیُّ عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِیْ سُلَیْمَانَ، عَنْ أَبِیْ وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، قَالَ : (کُنَّا اِذَا صَلَّیْنَا خَلْفَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قُلْنَا السَّلَامُ عَلَی اللّٰہِ السَّلَامُ عَلَی جِبْرَائِیْلُ السَّلَامُ عَلَی مِیکَائِیْلَ فَالْتَفَتَ إِلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : لَا تَقُوْلُوْا السَّلَامُ عَلَی اللّٰہِ فَإِنَّ اللّٰہَ ہُوَ السَّلَامُ، وَلٰـکِنْ قُوْلُوْا التَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ ، السَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ)۔
١٥١٧: ابو وائل نے ابن مسعود (رض) سے نقل کیا کہ ہم جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے نماز پڑھتے تو کہتے السلام علی اللہ السلام علی جبرائیل السلام علی میکائیل۔ (جب آپ نے یہ سنا) تو ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اس طرح نہ کہو السلام علی اللّٰہ ۔ اللہ تعالیٰ کی ذات السلام ہے بلکہ تم اس طرح کہا کرو۔ التحیات اللہ والصلوات والطیبات السلام علیک ایہا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین اشہد ان لاالٰہ الا اللہ واشہد ان محمداً عبدہ ورسولہ تمام قولی فعلی و مالی عبادات اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں تم پر سلام ہو اے نبی ! اور اللہ تعالیٰ کی رحمت و برکت ہم پر سلام ہو اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں پر۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بندے اور رسول ہیں۔
تخریج : بخاری فی الاذان باب ١٤٨‘ نمبر ١٥٠‘ الاستیذان باب ٣‘ والدعوات باب ١٦‘ التوحید باب ٥‘ مسلم فی الصلاۃ نمبر ٥٦‘ ابو داؤد فی الصلاۃ باب ١٧٨‘ نمبر ٩٦٨‘ ترمذی فی الدعوات باب ٨٢‘ نسائی فی التطبیق باب ١٠٠‘ والسہو باب ٥٦‘ ابن ماجہ فی الاقامہ باب ٢٤‘ نمبر ٨٩٩‘ مسند احمد ١؍٤١٣۔