۱۵۳۸ : مَا قَدْ حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ، وَابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَا : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ أَبِیْ عَرُوْبَۃَ، عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ یُوْنُسَ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الرَّقَاشِیِّ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا مُوْسَی الْأَشْعَرِیَّ یَقُوْلُ : إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا فَعَلَّمَنَا صَلَاتَنَا وَبَیَّنَ لَنَا سُنَّتَنَا، فَقَالَ: اِذَا کَانَ فِی الْقَعْدَۃِ الثَّانِیَۃِ فَلْیَکُنْ مِنْ قَوْلِ أَحَدِکُمْ، التَّحِیَّاتُ الطَّیِّبَاتُ، الصَّلَوَاتُ لِلّٰہِ، السَّلَامُ أَوْ قَالَ : سَلَّامٌ شَکَّ سَعِیْدٌ، عَلَیْکَ یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ، السَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ، أَشْہَد أَنْ لَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ.
١٥٣٨: حطان بن عبداللہ الرقاشی نے بیان کیا کہ میں نے ابو موسیٰ اشعری (رض) کو کہتے سنا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں خطبہ دیا اور ہمیں ہماری نماز سکھلائی اور ہمارا طریقہ ہمارے سامنے کھول کر بیان کیا اور فرمایا جب تم قعدہ ثانیہ کرو تو اس طرح کہو التحیات الطیبات ‘ الصلوات اللہ ‘ السلام یاسلام کہا یہ سعید راوی کو شک ہے : علیک یا ایہا النبی ورحمۃ اللہ ‘ السلام علینا وعلی عبداللہ الصالحین ‘ اشہد ان لاالٰہ الا اللہ وان محمدًا عبدہ ورسولہ۔
تخریج : مسلم فی الصلاۃ نمبر ٦٢۔