hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1575

.

الطحاوي

1575
Al Tahawi
۱۵۷۵ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنَ الصُّوْفِیُّ، قَالَ : ثَنَا أَشْعَثُ بْنُ شُعْبَۃَ، قَالَ : ثَنَا الْمِنْہَالُ بْنُ خَلِیْفَۃَ، عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَیْسٍ، قَالَ صَلّٰی بِنَا أَبُوْ أُمَیَّۃَ ثُمَّ حَدَّثَنَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (سَلَّمَ فِی الصَّلَاۃِ عَنْ یَمِیْنِہٖ وَعَنْ یَسَارِہٖ) .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَلَمْ نَعْلَمْ شَیْئًا صَحَّ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی السَّلَامِ فِی الصَّلَاۃِ إِلَّا وَقَدِ دَخَلَ فِیْمَا رَوَیْنَا فِیْ ھٰذَا الْبَابِ، فَإِنَّمَا یُخَالِفُ ذٰلِکَ مَنْ یُخَالِفُہٗ إِلٰی حَدِیْثِ الدَّرَاوَرْدِیِّ الَّذِیْ قَدْ بَیَّنَّا فَسَادَہٗ فِیْ أَوَّلِ ھٰذَا الْبَابِ .وَقَدْ احْتَجَّ قَوْمٌ فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا۔
١٥٧٥: ازرق بن قیس کہتے ہیں کہ ہمیں ابو احیہ (رض) نے نماز پڑھائی پھر بیان کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں اپنے دائیں بائیں سلام پھیرتے تھے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ ہمیں کوئی ایسی روایت معلوم نہیں جو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت ہو اور وہ ان روایات میں موجود نہ ہو اور یہ روایات تمام حدیث دراوردی کے خلاف ہیں جس کی کمزوری ہم شروع باب میں نقل کرچکے ہیں۔ انھوں نے مندرجہ روایت کو بھی اپنا مستدل قرار دیا ہے۔
تخریج : ابو داؤد فی الصلاۃ باب ١٨٨‘ نمبر ١٠٠٧۔
امام طحاوی (رح) کہتے ہیں کہ نماز میں سلام پھیرنے کی صحیح روایات جو اس باب میں وارد ہیں وہ ہم نے یہاں بیان کردیں اب ان روایات کے بالمقابل دراوردی کی روایت کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے جس کے اندر پائی جانے والی خرابیاں ہم نے ذکر کردیں۔
دو اہم اشکال :
حضرت عائشہ (رض) کی روایت میں ایک سلام کا تذکرہ موجود ہے پھر آپ کس طرح کہتے ہیں کہ ہم نے دو سلام کی تمام صحیح روایت نقل کردیں۔ روایات عائشہ (رض) یہ ہے۔