۱۵۷۶ : بِمَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِیْمِ الْبَرْقِیُّ، قَالَا : ثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِیْ سَلَمَۃَ قَالَ : ثَنَا زُہَیْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیْہِ، عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا (أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ کَانَ یُسَلِّمُ تَسْلِیْمَۃً وَاحِدَۃً) .قِیْلَ لَہُمْ ھٰذَا حَدِیْثٌ أَصْلُہُ مَوْقُوْفٌ عَلٰی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا ھٰکَذَا رَوَاہُ الْحُفَّاظُ وَزُہَیْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَإِنْ کَانَ رَجُلًا ثِقَۃً فَإِنَّ رِوَایَۃَ عَمْرِو بْنِ أَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْہُ تَضْعُفُ جِدًّا .ھٰکَذَا قَالَ یَحْیَی بْنُ مَعِیْنٍ فِیْمَا حَکَیْ لَہٗ عَنْہُ غَیْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِنَا لَآمَنُہُمْ عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْمُغِیْرَۃِ إِلَیَّ وَزَعَمَ أَنَّ فِیْہَا تَخْلِیْطًا کَثِیْرًا .فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ : فَإِذَا ثَبَتَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا فِیْمَا ذَکَرْتَ فَبِمَنْ یُعَارِضُہَا فِیْ ذٰلِکَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .قِیْلَ لَہٗ بِأَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَدْ رَوَیْنَا ذٰلِکَ عَنْہُمَا فِیْمَا تَقَدَّمَ مِنْ ھٰذَا الْبَابِ .
١٥٧٦: عمرو بن ابی سلمہ نے زہیر بن محمد سے انھوں نے ہشام بن عروہ انھوں نے اپنے والد عروہ سے اور انھوں نے عائشہ (رض) سے بیان کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک سلام کرتے تھے۔ ان کو جواب میں عرض کیا جائے گا۔ اس حدیث کی اصل تو یہ ہے کہ یہ موقوف ہے۔ حفاظِ حدیث نے اس کو حضرت عائشہ صدیقہ (رض) پر موقوف قرار دیا ہے۔ اس کے راوی زہیر بن محمد اگرچہ پختہ راوی ہیں مگر ان سے عمرو بن ابی سلمہ کی روایت کو نہایت کمزور کہا گیا ہے۔ حضرت یحییٰ بن معین (رح) سے ہمارے بہت سے احباب نے اسی طرح نقل کیا ہے۔ میرے ہاں ان میں علی بن عبدالرحمن زیادہ قابل اعتماد ہیں۔ ان کا خیال یہ ہے کہ اس روایت میں شدید خلط ہے۔ اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ یہ بات تو حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے بھی ثابت ہے تو پھر اس روایت کا کس روایت سے معارضہ ہے۔ تو جواباً عرض کریں گے کہ حضرت ابوبکر و عمر (رض) کے مؤقف سے اس کا تعارض ہے۔ جیسا کہ اس باب کے شروع میں گزرا۔
تخریج : ترمذی ١؍٦٥۔
الجواب نمبر !: یہ روایت عمرو بن ابی سلمہ کی سند سے اگرچہ مرفوعاً نقل کی گئی ہے مگر اس روایت کو دیگر حفاظ حدیث نے نقل کیا مگر کسی نے بھی مرفوع قرار نہیں دیا بلکہ سب نے موقوف کہا ہے۔
نمبر ": عمرو بن ابی سلمہ خود متکلم فیہ اور ضعیف راوی ہے اور یحییٰ بن معین اور علی بن عبدالرحمن بن المغیرہ (رح) کی نشان دہی کے مطابق اس روایت میں عمرو مذکور نے بہت خلط ملط کیا ہے۔
عبارت : قدیمی نسخہ کے مطابق ! لامنہم الی ان سب سے زیادہ قابل اعتماد " بعض سے لاء منہم منقول ہے جس کا معنی الگ کیا ‘ متوجہ ہوا۔
اشکال نمبر ":
اس روایت کو تسلیم کرنے سے کن روایات سے معارضہ لازم آتا ہے۔
جواب : دیگر صحابہ (رض) کی روایات سے معارضہ کے علاوہ حضرات ابوبکر و عمر (رض) کی روایات سے معارضہ لازم آتا ہے۔