۱۵۹۹ : حَدَّثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ مُنْقِذٍ، وَعَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ، قَالَا : ثَنَا أَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْمُقْرِیُٔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ابْنِ زِیَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ رَافِعٍ ڑالتَّنُوْخِیِّ، وَبَکْرِ بْنِ سَوَادَۃَ الْجُذَامِیِّ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : (اِذَا قَضَی الْاِمَامُ الصَّلَاۃَ، فَقَعَدَ، فَأَحْدَثَ ہُوَ أَوْ أَحَدٌ مِمَّنْ أَتَمَّ الصَّلَاۃَ مَعَہٗ، قَبْلَ أَنْ یُسَلِّمَ الْاِمَامُ، فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُہٗ، فَلَا یَعُوْدُ فِیْہَا) " .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَھٰذَا مَعْنَاہُ غَیْرُ مَعْنَی الْحَدِیْثِ الْأَوَّلِ .وَقَدْ رُوِیَ ھٰذَا الْحَدِیْثُ أَیْضًا بِلَفْظٍ غَیْرِ ھٰذَا .
١٥٩٩: عبدالرحمن بن رافع تنوخی اور بکر بن سوادہ جذامی نے حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب امام نے نماز کو پورا کرلیا اور وہ بیٹھا رہا تو اس کو بےوضگی کی حالت پیش آئی یا اس کے مقتدی کو ایسی حالت میں حدث لاحق ہوگئی جبکہ اس کے امام نے ابھی سلام نہ پھیرا تھا تو اس نے اپنی نماز کو پورا کرلیا پس وہ اعادہ نہ کرے۔
تخریج : ابو داؤد فی الصلاۃ باب ٧٢‘ نمبر ٦١٧‘ ترمذی فی الصلاۃ باب ١٨٣‘ نمبر ٤٠٨۔
حاصل روایات : یہ ہے کہ قعدہ کے بعد سلام سے پہلے حدث لاحق ہو تو نماز مکمل ہوجاتی ہے۔
امام طحاوی (رح) کہتے ہیں اس روایت کا مفہوم پہلی روایت سے مختلف ہے یہاں قعدہ کے بعد نماز کو کامل کہا گیا قعدہ اخیرہ کا لزوم ثابت ہو رہا ہے۔ اس روایت کا تیسرا انداز بھی ہے۔