۱۶۰۰ : حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ سِنَانٍ، قَالَ : ثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْحَکَمِ، قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ زِیَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، فَذَکَرَ مِثْلَ حَدِیْثِ أَبِیْ بَکْرَۃَ، عَنْ أَبِیْ دَاوٗدَ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ .قَالَ مُعَاذٌ : فَلَقِیْتُ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ زِیَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، فَحَدَّثَنِیْ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ رَافِعٍ، وَبَکْرِ بْنِ سَوَادَۃَ، فَقُلْتُ لَہٗ : لَقِیْتَہُمَا جَمِیْعًا، فَقَالَ : کِلَیْہِمَا حَدَّثَنِیْ بِہٖ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : (اِذَا رَفَعَ الْمُصَلِّیْ رَأْسَہٗ مِنْ آخِرِ صَلَاتِہٖ، وَقَضَی تَشَہُّدَہُ، ثُمَّ أَحْدَثَ، فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُہٗ، فَلَا یَعُوْدُ لَہَا) .وَاحْتَجَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا : لَا تَتِمُّ الصَّلَاۃُ حَتّٰی یَقْعُدَ فِیْہَا قَدْرَ التَّشَہُّدِ بِمَا۔
١٦٠٠: عبدالرحمن بن زیاد نے ابو بکرہ جیسی روایت نقل کی ہے۔ ابن مبارک کہتے ہیں کہ معاذ نے بتلایا کہ میں عبدالرحمن بن زیاد کو ملا انھوں نے عبدالرحمن بن رافع اور بکر بن سوادہ دونوں سے مجھے بیان کیا میں نے کہا کیا تو سب کو ملا ہے تو اس نے کہا دونوں نے مجھے عبداللہ بن عمرو (رض) سے بیان کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب نمازی نے اپنی نماز کے اختتام پر سجدہ سے سر اٹھا لیا اور تشہد پڑھ لیا پھر اس کا وضو ٹوٹ گیا تو گویا اس کی نماز پوری ہوگئی وہ اس کا اعادہ نہ کرے۔ اس روایت کو ان لوگوں نے دلیل بنایا جن کا مقولہ یہ ہے کہ جب تک تشہد کی مقدار قعدہ نہ کرے اس کی نماز مکمل نہ ہوگی۔
تخریج : روایت نمبر ١٥٩٩ کی تخریج ملاحظہ کرلیں۔
حاصل روایات : یہ ہے کہ جو نمازی آخری سجدہ کر کے تشہد بیٹھ گیا اس کی نماز پوری ہوگئی اگر اس وقت کوئی حدث لاحق ہوجائے تو اس پر اعادہ نہیں ہے یہ روایت سابقہ روایات پر مفصل ہونے کی وجہ سے قابل ترجیح ہوگی۔
فریق ثانی کی جماعت دوم کا مؤقف یہ ہے کہ قعدہ اخیرہ فرض ہے اور مقدار تشہد بیٹھنے کی مقدار جب تک تشہد اختیار نہ کرے گا نماز پوری نہ ہوگی اوپر والی روایت بھی اسی طرف اشارہ کرتی ہے۔ مگر مستقل دلائل یہ روایات ہیں۔