۱۶۱۱ : حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ، قَالَ : ثَنَا الْخَصِیْبُ، قَالَ : ثَنَا ہَمَّامٌ عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ أَبِیْ مِجْلَزٍ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا، عَنِ الْوِتْرِ فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ : (رَکْعَۃٌ مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ) وَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : (رَکْعَۃٌ مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ) : قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی ھٰذَا فَقَلَّدُوہُ وَجَعَلُوْہُ أَصْلًا .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ، فَافْتَرَقُوْا عَلَی فِرْقَتَیْنِ، فَقَالَ بَعْضُہُمْ : الْوِتْرُ ثَلاَثُ رَکَعَاتٍ لَا یُسَلِّمُ إِلَّا فِیْ آخِرِہِنَّ، وَقَالَ بَعْضُہُمْ : الْوِتْرُ ثَلاَثُ رَکَعَاتٍ یُسَلِّمُ فِی الْاِثْنَتَیْنِ مِنْہُنَّ، وَفِیْ آخِرِہِنَّ .وَکَانَ قَوْلُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (الْوِتْرُ رَکْعَۃٌ مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ) قَدْ یَحْتَمِلُ عِنْدَنَا مَا قَالَ أَہْلُ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی، وَیَحْتَمِلُ أَنْ یَکُوْنَ رَکْعَۃً مِنْ شَفْعٍ قَدْ تَقَدَّمَہَا وَذٰلِکَ کُلُّہٗ وِتْرٌ فَتَکُوْنُ تِلْکَ الرَّکْعَۃُ تُوْتِرُ الشَّفْعَ الْمُتَقَدِّمَ لَہَا .وَقَدْ بَیَّنَ ذٰلِکَ مَا قَدْ رَوَاہُ بَعْضُہُمْ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا .
١٦١١: قتادہ نے ابو مجلز سے نقل کیا کہ میں نے حضرت ابن عباس (رض) سے سوال کیا کہ وتر کتنے ہیں تو انھوں نے فرمایا میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا وتر رات کے اخیر میں ایک رکعت ہے اور میں نے ابن عمر (رض) سے بھی سوال کیا تو انھوں نے فرمایا وتر رات کے آخری حصہ میں ایک رکعت ہے۔ امام طحاوی (رح) کچھ لوگوں نے اس بات کو اختیار کیا اور اس کو اصل قرار دیا۔ جبکہ دوسروں نے اس سے اختلاف کیا ہے۔ پھر ان کی دو جماعتیں ہوگئیں۔ ایک فریق نے یہ کہا کہ وتر تین رکعت ہیں ‘ سلام ان کے آخر میں پھیرا جائے گا اور دوسری جماعت کہتی ہے کہ وتر تین رکعت ہے مگر وہ دو رکعت کے بعد سلام پھیر لے اور پھر آخر میں سلام پھیر لے۔ رہا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد گرامی ” الوتر رکعۃ ۔۔۔“ (الحدیث) کہ وتر ایک رکعت ہے۔ اس میں اس بات کا احتمال ہے۔ جو قول اول والوں نے کہی ہے اور دوسرا احتمال یہ بھی ہے کہ وہ رکعت ان دو رکعتوں کے ساتھ ہو جو پہلے پڑھی گئیں اور یہ تمام وتر کہلائیں گی۔ تو یہ رکعت ان دو پہلی رکعتوں کو وتر بنا دے گی۔ حضرت ابن عمر (رض) سے جن حضرات نے یہ بات بیان کی اس میں اسی بات کا تذکرہ ہے۔
تخریج : مسلم ص ٧٥٣۔
و تر ایک رکعت ہے اس کو فریق اوّل سے اختیار کیا اور اپنایا ہے امام طحاوی (رح) نے مذہب قوم سے اسی طرف اشارہ کیا ہے۔
فریق ثانی کا مؤقفإ
وتر تین رکعت ہے ان کی پھر دو جماعتیں ہیں۔
جماعت اول : تین وتر ایک سلام سے ہیں۔
جماعت دوم : تین وتر دو سلام سے ہیں۔
فریق اوّل کی دلیل کا جواب : کان قول رسول اللہ آخرہ الوتر رکعۃ : اس میں دو احتمال ہیں۔
نمبر !: وتر ایک رکعت ہے۔
نمبر ": وتر اس شفع کی ایک رکعت ہے جو اس سے پہلے ہے اور یہ تمام ملا کر وتر ہے پس وہ رکعت اس شفع کو جو اس سے پہلے ہے بنانے والی ہے اور یہ احتمال من گھڑت نہیں بلکہ ابن عمر (رض) سے منقول ہے۔ روایت ملاحظہ ہو۔