۱۶۱۲ : حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ سِنَانٍ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاۃِ اللَّیْلِ فَقَالَ : مَثْنٰی، مَثْنٰی، فَإِذَا خَشِیْتَ الصُّبْحَ، فَصَلِّ رَکْعَۃً تُوْتِرُ لَکَ صَلَاتَکَ) .
١٦١٢: نافع کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) نے بیان کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کسی آدمی نے سوال کیا کہ رات کی نماز کس طرح اور کتنی ہے تو آپ نے فرمایا مثنیٰ مثنیٰ دو دو پڑھتے رہو۔ جب صبح کا خدشہ ہو تو ایک رکعت پڑھو جو تیری ان رکعتوں کو طاق بنا دے یعنی دو کے ساتھ تیسری ملا لو یہ وتر بن جائیں گے۔
تخریج : بخاری باب الوتر ‘ مسلم فی المسافرین ١٤٥؍١٤٦‘ نسائی فی قیام اللیل باب ٣٥‘ مسند احمد ٢؍١٣٣‘ ابن ابی شیبہ ٢؍٨٨۔