۱۶۳۱ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ، قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْہَالِ، قَالَ ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ زُرَیْعٍ، عَنْ سَعِیْدٍ، فَذَکَرَ بِإِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ .فَأَخْبَرْتُ أَنَّ الْوِتْرَ ثَلاَثًا لَا یُسَلِّمُ بَیْنَ شَیْئٍ مِنْہُنَّ .ثُمَّ قَدْ رُوِیَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا بَعْدَ ھٰذَا أَحَادِیْثُ فِی الْوِتْرِ اِذَا کُشِفَتْ رَجَعَتْ إِلٰی مَعْنٰی حَدِیْثِ سَعْدٍ ھٰذَا. فَمِنْ ذٰلِکَ۔
١٦٣١: محمد بن المنہال کہتے ہیں ہمیں یزید بن زریع نے انھوں نے سعید پھر سعید نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ پس حضرت امو المؤمنین عائشہ صدیقہ (رض) نے بتلایا کہ وتر تین رکعت ہیں اور ان کے مابین بالکل سلام نہ پھیرے پھر اس کے بعد حضرت عائشہ صدیقہ (رض) جب ان کو کھولا جائے تو ان کا مفہوم حضرت سعد (رض) والی روایت کی طرف لوٹ آتا ہے۔ ان میں سے یہ روایت ہے۔
حاصل روایات : عائشہ (رض) نے یہ بتلایا کہ آپ وتروں کے مابین سلام نہ پھیرتے تھے پہلی روایات ابن عمر (رض) قول و فعل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سلسلہ میں مجمل ہیں اور یہ مفصل پس اسی کو ترجیح ہوگی۔ مزید روایات ملاحظہ ہوں۔
ان روایات کا مفہوم جاننے کے لیے روایت سعد بن ہشام کو سامنے رکھیں۔