۱۶۳۲ : مَا حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ مَنْصُوْرٍ، قَالَ : ثَنَا ہُشَیْمٌ، قَالَ : أَنَا أَبُوْ حُرَّۃَ، قَالَ : ثَنَا الْحَسَنُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ ہِشَامٍ، عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا، قَالَتْ : (کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا قَامَ مِنَ اللَّیْلِ افْتَتَحَ صَلَاتَہُ بِرَکْعَتَیْنِ خَفِیْفَتَیْنِ ثُمَّ صَلَّی ثَمَانِ رَکَعَاتٍ ثُمَّ أَوْتَرَ) .فَأَخْبَرْت ہَاہُنَا أَنَّہٗ کَانَ یُصَلِّیْ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ ثَمَانِیًا ثُمَّ یُوْتِرُ. فَکَانَ مَعْنٰی ثُمَّ یُوْتِرُ یَحْتَمِلُ ثُمَّ یُوْتِرُ بِثَلاَثٍ، مِنْہُنَّ رَکْعَتَانِ مِنَ الثَّمَانِ وَرَکْعَۃٌ بَعْدَہَا فَکَوْنُ جَمِیْعُ مَا صَلَّی إِحْدٰی عَشْرَۃَ رَکْعَۃً .وَیَحْتَمِلُ : ثُمَّ یُوْتِرُ بِثَلاَثٍ مُتَتَابِعَاتٍ .فَیَکُوْنُ جَمِیْعُ مَا صَلّٰی ثَلاَثَ عَشْرَۃَ رَکْعَۃً .فَنَظَرْنَا فِیْمَا یُحْتَمَلُ مِنْ ذٰلِکَ، ہَلْ جَائَ شَیْئٌ یَدُلُّ عَلٰی شَیْئٍ مِنْہُ بِعَیْنِہِ .
١٦٣٢: سعد بن ہشام نے حضرت عائشہ (رض) سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب رات کو بیدار ہوتے تو اپنی نماز دو ہلکی رکعات پڑھ کر شروع فرماتے پھر آٹھ رکعات پڑھتے پھر وتر پڑھتے۔ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) نے یہاں خبر دی کہ آپ رات کی نماز دو رکعت پڑھتے ‘ پھر آٹھ رکعت ادا فرماتے ‘ پھر وتر پڑھتے۔ پس ” ثم یوتر “ کا معنی احتمال رکھتا ہے کہ تین رکعت وتر پڑھتے آٹھ میں دو رکعت اور ان کے ساتھ ایک رکعت اور ملا ‘ اس طرح تمام مل کر گیارہ رکعت پڑھتے اور دوسرا احتمال یہ ہے کہ تین مسلسل رکعات وتر پڑھتے اس طرح آپ کی مجموعی رکعات کی تعداد گیارہ رکعت ہوجاتی۔ پھر ہم نے ان احتمالات میں غور کیا کہ آیا جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا اس سلسلہ میں کوئی بات روایات میں وارد ہوئی ہے جو اس بات پر دلالت کرنے والی ہو۔
تخریج : مسلم فی المسافرین حدیث ١٢١‘ ابو داؤد فی الصلاۃ حدیث ١٣٤٠‘ نسائی فی قیام اللیل باب ٥٥۔
حاصل روایات : پہلے آپ دو رکعت پڑھتے پھر آٹھ اور پھر وتر پڑھتے یوتر کا لفظ دو احتمال رکھتا ہے۔ کہ آٹھ میں سے آخری دو کو ایک رکعت ملا کر وتر بنا لیتے تو کل گیارہ رکعت بن گئیں اور یہ احتمال بھی ہے کہ تین الگ مسلسل پڑھتے ہیں۔
دونوں میں ایک احتمال کا تعین روایات سے ہوگا۔