۱۶۳۴ : حَدَّثَنَا بَکَّارٌ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ دَاوٗدَ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ حُرَّۃَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ (سَعْدِ بْنِ ہِشَامِ ڑ الْأَنْصَارِیِّ، أَنَّہٗ سَأَلَ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا، عَنْ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِاللَّیْلِ، فَقَالَتْ : کَانَ یُصَلِّی الْعِشَائَ ثُمَّ یَتَجَوَّزُ بِرَکْعَتَیْنِ، وَقَدْ أَعَدَّ سِوَاکَہُ وَطَہُوْرَہُ فَیَبْعَثُہُ اللّٰہُ لِمَا شَائَ أَنْ یَبْعَثَہُ، فَیَتَسَوَّکُ، وَیَتَوَضَّأُ، ثُمَّ یُصَلِّیْ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ یَقُوْمُ فَیُصَلِّیْ ثَمَانِ رَکَعَاتٍ یُسَوِّیْ بَیْنَہُنَّ فِی الْقِرَائَ ۃِ، ثُمَّ یُوْتِرُ بِالتَّاسِعَۃِ .فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَہُ اللَّحْمُ، جَعَلَ تِلْکَ الثَّمَانِیَ سِتًّا، ثُمَّ یُوْتِرُ بِالسَّابِعَۃِ، ثُمَّ یُصَلِّیْ رَکْعَتَیْنِ وَہُوَ جَالِسٌ یَقْرَأُ فِیْہِمَا بِ (قُلْ یَا أَیُّہَا الْکَافِرُوْنَ) وَ (اِذَا زُلْزِلَتَ الْأَرْضُ) ) .فَفِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّہٗ کَانَ یُصَلِّیْ قَبْلَ الثَّمَانِی الَّتِیْ یُوْتِرُ بِتَاسِعَتِہِنَّ أَرْبَعًا فَجَمِیْعُ ذٰلِکَ ثَلاَثَ عَشْرَۃَ رَکْعَۃً مِنْہَا الْوِتْرُ الَّذِیْ فَسَّرَہُ زُرَارَۃُ، عَنْ سَعْدٍ، عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا وَہُوَ ثَلاَثُ رَکَعَاتٍ لَا یُسَلِّمُ إِلَّا فِیْ آخِرِہِنَّ فَقَدْ صَحَّتْ رِوَایَۃُ سَعْدٍ عَنْ عَائِشَۃَ وَثَابِتٌ عَلٰی مَا ذَکَرْنَا .وَقَدْ رَوٰی عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ شَقِیْقٍ عَنْ عَائِشَۃَ فِیْ ذٰلِکَ۔
١٦٣٤: سعد بن ہشام انصاری کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ (رض) سے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رات کی نماز کے سلسلہ میں دریافت کیا تو وہ فرمانے لگیں آپ عشاء کی نماز ادا فرماتے پھر آپ مختصر دو رکعت ادا فرماتے آپ کی مسواک اور پانی والا لوٹا تیار ہوتا پھر اللہ تعالیٰ جب چاہتا آپ کو بیدار کردیتا آپ مسواک کرتے پھر وضو کرتے پھر دو رکعت نماز ادا فرماتے پھر آپ کھڑے ہو کر آٹھ رکعت ادا فرماتے ان میں ایک جیسی قراءت فرماتے پھر نوویں کو ساتھ ملا کر وتر بنا لیتے۔ اس روایت میں ہے کہ آپ جن آٹھ رکعات کے ساتھ نوویں ملا کر ان کو وتر بناتے ان میں پہلے چار رکعت پڑھتے تھے ‘ پھر یہ ملا کر تیرہ رکعت بن جاتیں جن میں وہ وتر بھی شامل تھے جن کا زرارہ نے اپنی روایت میں بیان کیا ہے اور زرارہ نے وہ حضرت عائشہ صدیقہ اور سعد (رض) سے روایت کی ہے اور وہ تین رکعات ہیں جن کے درمیان میں سلام نہ پھیرتے تھے۔ پس حضرت سعد کی روایت حضرت عائشہ صدیقہ اور ثابت (رض) درست ہے جیسا ہم نے ذکر کیا ہے اور عبداللہ بن شقیق (رح) نے بھی حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت نقل کی ہے۔ وہ اس طرح ہے۔
تخریج : مسلم صلوۃ المسافرین نمبر ٢٣٩‘ ابو داؤد فی الصلاۃ باب ١٧٣‘ نمبر ١٣٤٩‘ نسائی فی قیام اللیل باب ٢‘ ١٨‘ ٣٩‘ ابن ماجہ فی الاقامہ باب ١٢٣‘ نمبر ١١٩‘ دارمی فی الصلاۃ ١٦٥‘ مسدن احمد ١؍٥٤١٣٢۔
فیبعثہ اللہ اللہ تعالیٰ جب چاہتا آپ کو اٹھا دیتا پھر آپ مسواک اور وضو فرماتے پھر دو رکعت ادا فرماتے پھر کھڑے ہو کر آٹھ رکعت ادا فرماتے ان میں ایک جیسی قراءت کرتے پھر نوویں کو ملا کر ان کو وتر بناتے پس جب آپ پر بڑھاپا آگیا اور جسم مبارک گوشت سے بھاری ہوگیا تو ان آٹھ کو چھ میں بدل دیا اور ساتویں کو ملا کر آپ وتر بنا لیتے پھر یبٹھ کر دو رکعت ادا فرماتے اور ان میں قل یا ایہا الکافرون اور اذا زلزلت الارض (الزلزال) تلاوت فرماتے۔
حاصل روایات : یہ ہے کہ پہلے آپ آٹھ رکعت ادا فرماتے رہے جن میں سے نوویں کو ملا کر آپ چار کو وتر بنا لیتے پس یہ کل تیرہ رکعت ہوتیں جن میں وتر بھی ہیں۔ زرارہ نے سعد عن عائشہ (رض) وتروں کی وضاحت تین سے کی ہے جن کے آخر میں آپ سلام پھیرتے تھے اور زرارہ کی روایت عائشہ (رض) سے واضح طور پر ثابت ہے۔