۱۶۳۳ : فَإِذَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَیْمَانَ الْبَاغَنْدِیُّ، قَدْ حَدَّثَانَا قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیْدِ، ثَنَا حُصَیْنُ بْنُ نَافِعِ ڑالْعَنْبَرِیُّ عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ ہِشَامٍ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلٰی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا فَقُلْتُ : حَدِّثِیْنِیْ عَنْ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ : کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّیْ بِاللَّیْلِ ثَمَانِ رَکَعَاتٍ وَیُوْتِرُ بِالتَّاسِعَۃِ فَلَمَّا بَدَّنَ صَلّٰی سِتَّ رَکَعَاتٍ وَأَوْتَرَ بِالسَّابِعَۃِ وَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ وَہُوَ جَالِسٌ .فَفِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّہٗ کَانَ یُوْتِرُ بِالتَّاسِعَۃِ، فَذٰلِکَ مُحْتَمَلٌ أَنْ یَکُوْنَ یُوْتِرُ بِالتَّاسِعَۃِ مَعَ اثْنَتَیْنِ مِنَ الثَّمَانِ الَّتِیْ قَبْلَہَا، حَتّٰی یَتَّفِقَ ھٰذَا الْحَدِیْثُ وَحَدِیْثُ زُرَارَۃَ وَلَا یَتَضَادَّانِ .
١٦٣٣: سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ (رض) کی خدمت میں گیا اور میں نے کہا مجھے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رات کی نماز کے متعلق بتلائیے تو وہ کہنے لگیں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کو آٹھ رکعت ادا فرماتے اور نوویں کو ساتھ ملا کر وتر بنا لیتے جب آپ کا بدن بھاری ہوگیا (بڑھاپا آگیا) تو چھ رکعت ساتویں ملا کر وتر بنا لیتے اور پھر دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے۔ اس روایت میں یہ ہے کہ آپ نویں رکعت کے ساتھ وتر بنا لیتے۔ پس اس میں یہ احتمال ہے آٹھوں میں آخری دو رکعت کے ساتھ تیسری ملا کر ان کو وتر بنا لیتے تاکہ یہ اور زرارہ والی روایت متفق ہوجائیں اور ان کا تضاد نہ رہے۔
تخریج : ابو داؤد فی الصلاۃ نمبر ١٣٥٢‘ نسائی فی قیام اللیل باب ٤٢۔
حاصل روایات : اس روایت سے معلوم ہوا کہ نوویں رکعت کو وتر بناتے اس میں دو احتمال ہیں نمبر ایک آٹھ میں سے آخری دو کے ساتھ ایک ملا کر وتر بنا لیتے یہ مفہوم ماقبل روایت اور اس روایت کو جمع کرتا ہے ورنہ وہ اس کے خلاف و متضاد ہوجائے گی۔