hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1636

.

الطحاوي

1636
Al Tahawi
۱۶۳۶ : قَدْ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ، قَالَ : ثَنَا سَہْلُ بْنُ بَکَّارٍ، قَالَ : ثَنَا أَبَانُ بْنُ یَزِیْدَ، قَالَ : ثَنَا یَحْیَی ابْنُ أَبِیْ کَثِیْرٍ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا (أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یُصَلِّیْ مِنَ اللَّیْلِ ثَلاَثَ عَشْرَۃَ رَکْعَۃً، یُصَلِّیْ ثَمَانِ رَکَعَاتٍ ثُمَّ یُوْتِرُ بِرَکْعَۃٍ ثُمَّ یُصَلِّیْ رَکْعَتَیْنِ وَہُوَ جَالِسٌ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ یَرْکَعَ قَامَ فَرَکَعَ وَصَلّٰی بَیْنَ أَذَانِ الْفَجْرِ وَالْاِقَامَۃِ رَکْعَتَیْنِ) .فَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُوْنَ الثَّمَانِ رَکَعَاتٍ الَّتِیْ أَوْتَرَ بِتَاسِعَتِہِنَّ فِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ ہِیَ الثَّمَانِ رَکَعَاتٍ الَّتِیْ ذَکَرَ سَعْدُ بْنُ ہِشَامٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یُصَلِّیْ قَبْلَہُنَّ أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ لِیَتَّفِقَ ھٰذَا الْحَدِیْثُ وَحَدِیْثُ سَعْدٍ، وَیَکُوْنَ ھٰذَا الْحَدِیْثُ قَدْ زَادَ عَلٰی حَدِیْثِ سَعْدٍ وَحَدِیْثِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ شَقِیْقٍ تَطَوُّعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْوِتْرِ .وَیُحْتَمَلُ أَیْضًا أَنْ یَکُوْنَ ھٰذِہِ التِّسْعُ ہِیَ التِّسْعَ الَّتِیْ ذَکَرَہَا سَعْدُ بْنُ ہِشَامٍ فِیْ حَدِیْثِہٖ، عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یُصَلِّیْہَا لَمَّا بَدَّنَ فَیَکُوْنُ ذٰلِکَ تِسْعَ رَکَعَاتٍ مَعَ الرَّکْعَتَیْنِ الْخَفِیْفَتَیْنِ اللَّتَیْنِ کَانَ یَفْتَتِحُ بِہِمَا صَلَاتَہٗ، ثُمَّ کَانَ یُصَلِّیْ بَعْدَ الْوِتْرِ رَکْعَتَیْنِ جَالِسًا بَدَلًا مِمَّا کَانَ یُصَلِّیْہِ قَبْلَ أَنْ یُبَدِّنَ قَائِمًا، وَہُوَ رَکْعَتَانِ، فَقَدْ عَادَ ذٰلِکَ أَیْضًا إِلَی ثَلاَثَ عَشْرَۃَ رَکْعَۃً .
١٦٣٦: ابو سلمہ بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کو تیرہ رکعات ادا فرماتے آٹھ رکعت ادا فرماتے پھر ایک رکعت ملا کر ان کو وتر بنا لیتے یعنی آخری دو کے ساتھ تیسری ملا کر وتر بناتے پھر دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے پس جب رکوع کا ارادہ فرماتے تو کھڑے ہو کر رکوع کرتے اور فجر کی اذان و اقامت کے درمیان دو رکعت (فجر کی سنتیں) پڑھتے۔ اس روایت میں احتمال ہے کہ وہ آٹھ رکعات جن کے ساتھ ایک ملا کر ان کو وتر بنایا یہ وہی آٹھ رکعات ہو جن کا تذکرہ سعد بن ہشام کی حضرت عائشہ صدیقہ (رض) والی روایت میں ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے پہلے چار رکعت ادا فرماتے تاکہ یہ روایت سعد والی روایت سے متفق ہوجائے اور اس حدیث سے سعد والی روایت اور عبداللہ بن شقیق والی روایت پر اضافہ ہو کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وتر کے بعد نفل پڑھتے اور دوسرا احتمال یہ ہے کہ یہ نو وہی نو رکعات ہوں جن کا تذکرہ سعد نے حضرت عائشہ صدیقہ (رض) والی روایت میں کیا ہے۔ کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو ادا فرماتے رہے جب آپ کا بدن مبارک بھاری ہوگیا پس وہی نو رکعات دو خفیف رکعات سمیت رہیں جن سے آپ اپنی نماز کو شروع فرماتے ‘ پھر وتروں کے بعد دو رکعت بیٹھ کر ان کے بدلے میں ادا فرماتے جن کو آپ بدن کے بھاری ہونے سے پہلے ادا فرماتے تھے اور وہ دو رکعت ہوتیں اس طرح یہ بھی تیرہ رکعت کی طرف بات لوٹ گئی۔
تخریج : مسلم فی المسافرین نمبر ١٢٦‘ ابو داؤد فی الصلاۃ نمبر ١٣٤٠‘ نسائی فی قیام اللیل باب ٥٥۔
اس روایت میں دو احتمال ہیں۔
نمبر 1: یہ آٹھ رکعات وہی ہیں جن کو سعد بن ہشام نے عائشہ (رض) سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چار رکعت ان سے پہلے پڑھتے تاکہ یہ روایت اس کے موافق ہوجائے اس روایت میں سعد اور عبداللہ بن شقیق کی روایت پر میں وتروں کے بعد نوافل کا اضافہ پایا جاتا ہے۔
نمبر 2: ممکن ہے کہ یہ سعد والی روایت میں مذکور نو ٩ ہوں حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو پڑھا کرتے تھے جب آپ کا بدن بھاری ہوگیا تو یہ نو ٩ رکعت ان خفیف رکعات سمیت ہوں گی جن سے آپ نماز شروع فرماتے تھے پھر وتروں کے بعد دو رکعت بیٹھ کر ادا فرماتے ان کے بدلے جو بدن کے بھاری ہونے سے پہلے کھڑے ہو کر پڑھا کرتے تھے تو یہ ١٣ رکعت بن گئیں۔