۱۶۳۷ : حَدَّثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ، قَالَ : ثَنَا ہَارُوْنُ بْنُ إِسْمَاعِیْلَ الْخَزَّازُ، قَالَ : ثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمُبَارَکِ، قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِیْ کَثِیْرٍ، عَنْ أَبِیْ سَلَمَۃَ، قَالَ : (سَأَلْتُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا عَنْ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِاللَّیْلِ فَقَالَتْ : کَانَ یُصَلِّیْ ثَلاَثَ عَشْرَۃَ رَکْعَۃً، یُصَلِّیْ ثَمَانِ رَکَعَاتٍ ثُمَّ یُصَلِّیْ رَکْعَتَیْنِ وَہُوَ جَالِسٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ یَرْکَعَ قَامَ فَرَکَعَ قَائِمًا ثُمَّ یَسْجُدَ وَکَانَ یُصَلِّیْ رَکْعَتَیْنِ بَیْنَ الْأَذَانِ وَالْاِقَامَۃِ مِنْ صَلَاۃِ الصُّبْحِ) .فَھٰذَا الْحَدِیْثُ مَعْنَاہُ مَعْنَیْ حَدِیْثِ أَحْمَدَ بْنِ دَاوٗدَ، عَنْ سَہْلٍ، غَیْرَ أَنَّہٗ تَرَکَ ذِکْرَ الْوِتْرِ .
١٦٣٧: ابو سلمہ بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ (رض) سے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رات کی نماز کے سلسلہ میں سوال کیا تو کہنے لگیں آپ تیرہ رکعت پڑھا کرتے تھے اور آپ آٹھ رکعت پڑھتے پھر دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے ان میں جب رکوع کا وقت آتا تو کھڑے ہو کر رکوع کرتے پھر سجدہ کرتے اور دو رکعت (سنت فجر) نماز صبح کی اقامت و اذان کے درمیان پڑھتے۔ پس یہ روایت اس کا وہی معنی ہے جو احمد بن داؤد کی سہل والی روایت کا ہے۔ البتہ اس میں وتر کا ذکر اس سے چھوڑ دیا۔
تخریج : روایت ١٦٣٦ کی تخریج ملاحظہ ہو۔
حاصل روایات : اس روایت کا معنی احمد بن داؤد کی روایت جیسا ہے جو کہ اس نے سہل سے روایت کی ہے البتہ اس روایت میں وتر کا ذکر چھوٹ گیا ہے یعنی کل تیرہ دو پہلے والی خفیف دو آخر والی بیٹھ کر چھ رکعت مزید تین وتر۔ بہ معنی پہلی روایت سے موافقت کے لیے ہے۔