hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1653

.

الطحاوي

1653
Al Tahawi
۱۶۵۳ : فَإِذَا حُسَیْنُ بْنُ نَصْرٍ قَدْ حَدَّثَنَا، قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ عُفَیْرٍ، قَالَ : أَنَا یَحْیَی بْنُ أَیُّوْبَ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیْدٍ، عَنْ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقْرَأُ فِی الرَّکْعَتَیْنِ اللَّتَیْنِ کَانَ یُوْتِرُ بَعْدَہُمَا بِسَبِّحْ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلٰی وَقُلْ یَا أَیُّہَا الْکَافِرُوْنَ وَیَقْرَأُ فِی الَّتِیْ فِی الْوِتْرِ قُلْ ہُوَ اللّٰہُ أَحَدٌ وَ قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَ قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ .
١٦٥٣: یحییٰ بن سعید نے عمرہ بنت عبدالرحمن سے اور انھوں نے حضرت عائشہ (رض) سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان دو رکعتوں میں جن میں آخرری رکعت کو ملا کر وتر بنانا ہوتا تو اول میں سبح اسم ربک الاعلٰی دوسری میں قل یا ایھا الکافرون اور تیسری جس سے ان کو وتر بناتے اس میں کمل ھو اللہ احد اور قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس پڑھتے تھے۔
سنت ِفجر کی قراءت
حاصل روایت :: نماز فجر سے پہلے دو رکعت نماز واجب ہے یا سنت ‘ حسن بصری (رح) اس کو واجب کہتے ہیں جبکہ تمام ائمہ اس کو سنت کہتے ہیں فجر کی ان دو رکعتوں میں امام مالک صرف فاتحہ پڑھتے اور دیگر تمام ائمہ سورة فاتحہ اور سورة کا پڑھنا فرماتے ہیں شافعی (رح) و احمد (رح) تو پڑھنے کو لابأس بہ قرار دیتے ہیں اور احناف قراءت کو واجب مانتے ہیں۔
مؤقف فریق اوّل و ثانی : امام حسن بصری (رح) بالکل قراءت نہ کرنے کے قائل ہیں جبکہ امام مالک (رح) صرف فاتحہ کے قائل ہیں۔ روایات یہ ہیں۔