۱۶۵۴ : حَدَّثَنَا بَکْرُ بْنُ سَہْلٍ الدِّمْیَاطِیُّ ، قَالَ : ثَنَا شُعَیْبُ بْنُ یَحْیٰی ، قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیْدٍ ، عَنْ عَمْرَۃَ ، عَنْ عَائِشَۃَ ( أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یُوْتِرُ بِثَلَاثٍ یَقْرَأُ فِیْ أَوَّلِ رَکْعَۃٍ بِ سَبِّحْ اسْمَ رَبِّک الْأَعْلَی وَفِی الثَّانِیَۃِ قُلْ یَا أَیُّہَا الْکَافِرُوْنَ وَفِی الثَّالِثَۃِ قُلْ ہُوَ اللّٰہُ أَحَدٌ وَالْمُعَوِّذَتَیْنِ).فَأَخْبَرَتْ عَمْرَۃُ ، عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا فِیْ ہَذَا الْحَدِیْثِ بِکَیْفِیَّۃِ الْوِتْرِ کَیْفَ کَانَتْ وَوَافَقَتْ عَلَی ذٰلِکَ سَعْدَ بْنَ ہِشَامٍ وَزَادَ عَلَیْہَا سَعْدٌ أَنَّہٗ کَانَ لَا یُسَلِّمُ إِلَّا فِیْ آخِرِہِنَّ .
١٦٥٤ : حضرت عمرہ نے حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت کی ہے کہ ” جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین رکعت وتر پڑھے ‘ پہلی رکعت میں سبح اسم ربک الاعلیٰ ‘ دوسری میں قل یا ایہا الکافرون اور تیسری میں قل ھو اللہ اور معوذتین پڑھے “۔ اس روایت میں عمرہ نے حضرت صدیقہ (رض) سے وتروں کی کیفیت ذکر کی ہے۔ سعد بن ہشام کی روایت اس کے موافق ہے اور سعد کی روایت میں یہ اضافہ بھی منقول ہے کہ وہ آخر میں سلام پھیرتے تھے۔