۱۶۵۶ : وَحَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ قَیْسٍ قَالَ : ( قُلْتُ لِعَائِشَۃَ بِکَمْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُوْتِرُ ؟ قَالَتْ : کَانَ یُوْتِرُ بِأَرْبَعٍ وَثَلَاثٍ ، وَثَمَانٍ وَثَلَاثٍ ، وَعَشْرٍ وَثَلَاثٍ وَلَمْ یَکُنْ یُوْتِرُ بِأَنْقَصَ مِنْ سَبْعٍ وَلَا بِأَکْثَرَ مِنْ ثَلَاثَ عَشْرَۃَ).فَفِیْ ہَذَا الْحَدِیْثِ ذِکْرُہَا لَمَّا کَانَ یُصَلِّیْہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی اللَّیْلِ مِنْ التَّطَوُّعِ وَتَسْمِیَتُہَا إِیَّاہُ وِتْرًا إِلَّا أَنَّہَا قَدْ فَصَلَتْ بَیْنَ الثَّلَاثِ وَبَیْنَ مَا ذَکَرَتْ مَعَہَا وَلَیْسَ فِیْ ذٰلِکَ إِلَّا لِأَنَّ الثَّلَاثَ کَانَ لَہَا مَعْنًی بَائِنٌ مِنْ مَعْنَیْ مَا قَبْلِہَا فَدَلَّ ذٰلِکَ عَلَیْ مَعْنَی حَدِیْثِ الْأَسْوَدِ وَمَسْرُوْقٍ وَیَحْیَی بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّہٗ کَذٰلِکَ .وَالدَّلِیْلُ عَلَی ذٰلِکَ أَیْضًا مَا رُوِیَ عَنْہَا مِنْ قَوْلِہَا .
١٦٥٦ : عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں میں نے حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے سوال کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کتنے وتر پڑھتے۔ انھوں نے فرمایا آپ چار اور تین پڑھتے ‘ کبھی آٹھ اور تین پڑھتے ‘ کبھی دس اور تین پڑھتے ‘ سات سے کم کو وتر نہ بناتے اور نہ تیرہ سے زیادہ کو وتر بناتے۔ اس روایت میں آپ کی رات کی نفل نماز ذکر کی اور اس کا نام وتر رکھا ‘ البتہ تین اور اس کے ساتھ مذکورہ رکعات میں فاصلہ کیا اور اس کی وجہ واضح ہے کہ تین دوسری رکعات سے معنوی اعتبار سے جدا ہیں۔ اور اس کا معنی روایت اسود ‘ مسروق ‘ یحییٰ جو انھوں نے عائشہ صدیقہ (رض) سے نقل کی ‘ جیسا ہے۔ اور اس کی دلیل ان کا یہ قول بھی ہے۔ ملاحظہ ہو۔