hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1657

.

الطحاوي

1657
Al Tahawi
۱۶۵۷ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا ابْنُ أَبِیْ عُمَرَ ، قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِیْدِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ شَیْبَۃَ ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ ، عَنْ ( عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا ، قَالَتْ : کَانَ الْوِتْرُ سَبْعًا وَخَمْسًا ، وَالثَّلَاثُ بُتَیْرَائٌ ).فَکَرِہَتْ أَنْ تَجْعَلَ الْوِتْرَ ثَلَاثًا لَمْ یَتَقَدَّمْہُنَّ شَیْئٌ حَتّٰی یَکُوْنَ قَبْلَہُنَّ غَیْرُہُنَّ ، فَلَمَّا کَانَ الْوِتْرُ عِنْدَہَا أَحْسَنَ مَا یَکُوْنُ ہُوَ أَنْ یَتَقَدَّمَہُ تَطَوُّعٌ إِمَّا أَرْبَعٌ وَإِِمَّا اثْنَتَانِ جَمَعَتْ بِذٰلِکَ تَطَوُّعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی اللَّیْلِ الَّذِی صَلُحَ بِہِ الْوِتْرُ الَّذِی بَعْدَہَا وَالْوِتْرَ فَسَمَّتْ ذٰلِکَ بِذٰلِکَ وِتْرًا .إِلَّا أَنَّہٗ قَدْ ثَبَتَ فِیْ جُمْلَۃِ ذٰلِکَ عَنْہَا أَنَّ الْوِتْرَ ثَلَاثًا فَثَبَتَ مِنْ رِوَایَتِہَا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا رَوَاہُ عَنْہَا سَعْدُ بْنُ ہِشَامٍ لِمُوَافَقَۃِ قَوْلِہَا مِنْ رَأْیِہَا إِیَّاہُ .فَثَبَتَ بِذٰلِکَ أَنَّ الْوِتْرَ ثَلَاثًا لَا یُسَلِّمُ إِلَّا فِیْ آخِرِہِنَّ . غَیْرَ أَنَّ مَا رَوَاہُ ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃٍ عَنْ أَبِیْہِ فِیْ ذٰلِکَ ( أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یُوْتِرُ بِخَمْسٍ لَا یَجْلِسُ إِلَّا فِیْ آخِرِہِنَّ ) لَمْ نَجِدْ لَہٗ مَعْنًی .وَقَدْ جَاء َتِ الْعَامَّۃُ عَنْ أَبِیْہِ وَعَنْ غَیْرِہِ، عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا ، بِخِلَافِ ذٰلِکَ ، فَمَا رَوَتْہُ الْعَامَّۃُ أَوْلَی مِمَّا رَوَاہُ ہُوَ وَحْدَہُ وَانْفَرَدَ بِہِ .وَقَدْ رُوِیَتْ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا عَنْ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ذٰلِکَ آثَارٌ یَعُوْدُ مَعْنَاہَا أَیْضًا إِلَی الْمَعْنَی الَّذِی عَادَ إِلَیْہِ مَعْنَی حَدِیْثِ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا .فَمِنْ ذٰلِکَ۔
١٦٥٧ : ابن مسیب نے حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے نقل کیا آپ کے وتر سات ‘ پانچ ‘ تین رکعت تھے اور تین رکعت بتیرا ہیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) نے اس بات کو ناپسند کیا کہ صرف وتر تین ادا کرے اور ان سے پہلے کچھ نفل نہ پڑھے۔ جب ان کے نزدیک بہترین وتر وہ ہیں جن سے قبل نفل چار رکعت یا دو رکعت ہو ‘ انھوں نے اس طرح جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رات والی نماز کو جمع کر کے تمام کو وتر کہا۔ مگر اس کے ضمن میں یہ بات ثابت ہوگئی کہ وتروں کی تین رکعات ہیں۔ پس حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی اس مرفوع روایت سے وہی بات ثابت ہوئی۔ تو سعد بن ہشام نے حضرت صدیقہ (رض) سے نقل کی ہے۔ کیونکہ ان کا قول ان کے اجتہاد کے موافق ہے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ وتر تین ہیں اور ان کے درمیان سلام نہ پھیرا جائے گا ‘ بلکہ آخر میں پھیریں گے۔ البتہ عروہ نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کیا آپ پانچ وتر پڑھتے اور ان کے آخر میں بیٹھتے ‘ ہمیں اس کی تاویل نہیں مل سکی۔ عام روایات جو خود عروہ یا اوروں نے حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے نقل کی ہیں وہ اس کے خلاف ہیں۔ پس کثیر روات کی روایت عروہ کی منفرد روایت سے اولیٰ ہے اور عبداللہ بن عباس (رض) نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کچھ روایات نقل کی ہیں جن کا مفہوم وہی ہے جو روایت ِ صدیقہ (رض) کا ہے۔ ان میں سے یہ روایات ہیں۔